ایپینی-سور-اورج کے ایک محلے میں 11 سالہ لڑکی لوئیس کے قتل کے سلسلے میں ایک 23 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ نوجوان، جس کی شناخت ویڈیو نگرانی کی تصاویر کی مدد سے کی گئی، پیر کی شام سے پولیس کی تحویل میں ہے۔ لوئیس کی لاش ہفتہ کے روز لانجو میو کے ایک جنگل میں ملی تھی، جہاں وہ جمعہ کو اپنے کالج سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے نوجوان کی دستانوں پر کھرچنے کے نشانات اور اس کے بیان میں تضادات دریافت کیے ہیں۔ ملزم کی والدہ اور ساتھی پر بھی یہ الزام ہے کہ انہوں نے اسے جعلی عذر پیش کرنے میں مدد دی۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد، اس کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں نے اس کی شناخت کی، جس کے نتیجے میں پولیس نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔
پولیس کی تفتیشی ٹیم کے مطابق، ملزم کو “کالی ڈوڈون” پہنے ہوئے دیکھا گیا تھا، جو ویڈیو کیمروں میں نظر آیا تھا۔ اس کے علاوہ، لوئیس کے جسم پر ڈی این اے کے نمونے بھی ملے ہیں، جن کی تجزیاتی رپورٹس ابھی تک آنا باقی ہیں۔ مزید برآں، ملزم کی ہاتھوں پر زخموں کے نشانات بھی پائے گئے ہیں، جو ممکنہ طور پر کھرچنے یا چوٹ لگنے کے آثار ہیں۔
ایویری کے پبلک پراسیکیوٹر گریگور ڈولن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزم کے خلاف 15 سال سے کم عمر کے بچے کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے قریبی افراد، بشمول اس کی والدہ، والد، اور شریک حیات، کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، کیونکہ انہیں جرم کی اطلاع نہ دینے کے الزامات کا سامنا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے ایک دوسرے 23 سالہ نوجوان کو بھی ایپینی-سور-اورج میں گرفتار کیا، جس کا پس منظر بے گھر ہونے کا بتایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے، ایک اور نوجوان اور اس کی والدہ کو بھی روئن میں حراست میں لیا گیا تھا، لیکن ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔
لویس کے قتل کی یہ صورت حال علاقے میں خوف و ہراس کا باعث بنی ہوئی ہے، اور لوگوں کی نظریں اب پولیس کی تحقیقات پر مرکوز ہیں۔
