نازی سلامی اور ہم جنس پرست مخالف نعروں کے درمیان 23 سالہ کارکن کو خراج تحسین
لیون۔ فرانس کے شہر لیون میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک ریلی نے ملک میں انتہائی دائیں بازو کے عروج اور سیاسی تبدیلی کے خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔ 23 سالہ شناختی کارکن کوئنٹن ڈیرانک، جو گزشتہ ہفتے انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں کے ساتھ جھڑپ کے دو روز بعد ہلاک ہو گیا تھا، کے آخری خراج تحسین کے لیے 3,200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔
اگرچہ اس اجتماع میں کوئی سیاسی جماعت کے جھنڈے یا علامات نہیں تھیں، لیکن موقعے پر نازی سلامی اور ہم جنس پرست مخالف گالیاں سنائی دیں، جس کے بعد لیون پریفیکچر نے ان واقعات کی قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
’’براؤن لہر ہمارے گلی کوچوں میں‘‘
ریلی کے شرکاء میں مقامی اور قومی سطح کی انتہائی دائیں بازو کی شخصیات کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی شامل تھے۔ کچھ نے ماسک اور ہڈڈی پہن رکھی تھی، جبکہ کچھ مکمل طور پر شہری لباس میں تھے۔ والدین اپنے بچوں کے ہمراہ ’’انصاف‘‘ کے مطالبے کے لیے موجود تھے۔
ایک انتہائی بائیں بازو کی کارکن نے صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ہر موت المناک ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ المناک بات یہ ہے کہ اس موت کو نفرت انگیز، نسل پرستانہ اور خطرناک خیالات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ فاشزم ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، یہ براؤن لہر ہمارے گلی کوچوں میں ہے۔‘‘
’’ہم اس ملک کی سڑکیں واپس لے رہے ہیں‘‘
اجتماع کے منتظمین نے ابتدا میں ’’کوئی سیاست نہیں‘‘ کا اعلان کیا تھا، لیکن انتہائی دائیں بازو کے شناختی گروہوں نے اسے ایک فتح کے طور پر پیش کیا۔ ریلی میں تقریر کرتے ہوئے ایک شخص نے مائیکروفون پر زور دے کر کہا، ’’ہم اس ملک کی سڑکیں واپس لے رہے ہیں۔ ہم ووٹ کے ذریعے بھی جیتتے ہیں اور اپنے خیالات کا اعلان کر کے بھی۔ کبھی بھی یہ کہنے میں شرم محسوس نہ کریں کہ آپ محب وطن ہیں، کہ آپ کیتھولک ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر انہوں نے کوئنٹن کو قتل کیا۔‘‘
عام شہریوں میں خوف و تشویش
ریلی سے ہٹ کر ایک گلی میں کھڑے ایک خاندانی شخص نے واقعات کو دور سے دیکھا۔ انہوں نے کوئنٹن ڈیرانک کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’لیکن ہم ایسے ملک میں نہیں رہتے جو انتہائی دائیں بازو کی اکثریت میں ہو۔ یہ خوفزدہ کرنے والا ہے۔ ہم یہاں آزادی اور جمہوریت کے لیے آئے ہیں۔‘‘
ریلی تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، جس کے بعد کارکنوں نے منتشر ہونا شروع کر دیا۔ تاہم، لیون میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو اتوار تک تعینات رکھا گیا ہے۔ یہ اجتماع فرانس میں بڑھتے ہوئے سیاسی قطبی تقسیم اور تشدد کے واقعات کے درمیان ایک نئی بحث کا باعث بنا ہے۔
