صدر فرانس ایمانوئل میکرون نے جمعرات کی شام انسٹاگرام پر ایک نوجوان خاتون کے پیغام کے جواب میں واضح کیا کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ملوث ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔
شہریوں کے خدشات کا ادراک
صدر میکرون نے ایک نجی پیغام میں ایک نوجوان صارفہ کے سوال “کیا آپ جنگ ختم کر سکتے ہیں؟” کے جواب میں کہا، “میں آپ کی پریشانی کو سمجھتا ہوں، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کو بالکل جنگ نہیں لڑنی پڑے گی۔ آپ اپنی زندگی جاری رکھیں گے۔” یہ خاتون ایران پر اسرائیلی-امریکی حملوں کے ممکنہ اثرات سے فکرمند تھیں۔
فرانس کا دفاعی اور امن کردار
صدر نے وضاحت کی کہ “فرانس اس جنگ کا حصہ نہیں ہے۔ ہم جنگ میں نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں شامل ہوں گے۔ فرانس اس خطے میں جنگ نہیں کر رہا بلکہ فرانسیسی شہریوں، اتحادیوں کی حفاظت کر رہا ہے اور لبنان کے ساتھ کھڑا ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ ملک نے قریب مشرق اور مشرق وسطیٰ میں چارلس ڈی گال ایئر کرافٹ کیریئر سمیت اضافی فوجی دستے بھیجے ہیں تاکہ اپنے شہریوں اور ایران کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے اتحادیوں کی حفاظت کی جا سکے۔
بحری سلامتی کے لیے کوششیں
صدر میکرون نے کہا، “ہم مکمل طور پر پرامن طریقے سے بحری ٹریفک کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہیں۔” انہوں نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ خطے میں “عالمی معیشت کے لیے ضروری بحری راستوں” کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم زیادہ سے زیادہ معقول اور پرامن رہنے کی کوشش کریں گے کیونکہ یہ فرانس کا کردار ہے۔”
لبنان میں جنگ کے پھیلاؤ کی روک تھام
صدر میکرون نے لبنان میں تنازعہ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے، جہاں اسرائیل ایران نواز حزب اللہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے اور زمینی آپریشن کی دھمکی دے رہا ہے۔
انہوں نے ایک الارم والے پیغام میں کہا، “ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے تاکہ فرانس کے قریب اس ملک کو دوبارہ جنگ میں نہ گھسیٹا جائے۔” یہ بات انہوں نے لبنانی ہم منصب جوزف عون کی اپیل کے جواب میں کہی۔
