لبنانی صدر کی اپیل کے بعد فرانسیسی صدر نے مداخلت کی
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ اقدام لبنانی صدر ژوزف عون کی اسرائیل کے خلاف فوری مداخلت کی اپیل کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بیروت کے جنوبی مضافات پر بمباری روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔
بیروت میں انخلا کا ہنگامی حکم
اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافات میں رہنے والے تمام شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد دارالحکومت میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ لبنان اس علاقائی جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 102 افراد ہلاک اور 638 زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفارتی کوششیں
صدر میکرون نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ “ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے” تاکہ لبنان کو دوبارہ جنگ میں نہ گھسیٹا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “لبنانیوں کو امن اور سلامتی کا حق حاصل ہے، جیسا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام لوگوں کو حاصل ہے۔”
فرانسیسی صدر نے ہنگامی بنیادوں پر بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے انسانی امداد بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس میں ادویات کی کئی ٹن فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے صدروں سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں تاکہ خطے میں صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔
ایران-اسرائیل تنازعے کے دیگر پہلو
- اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران میں امریکی تعاون پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا
- ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی یا مذاکرات سے انکار کر دیا
- بحرین کی اہم تیل پلانٹ میں میزائل حملے سے آگ لگ گئی
- ایران نے سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی تردید کی
- یروشلم کے مقدس مقامات کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا
خطے میں انسانی بحران
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایران میں اسرائیلی-امریکی بمباری سے 3,646 سے زائد رہائشی عمارتیں اور 14 طبی مراکز متاثر ہوئے ہیں۔ لبنان میں بے گھر ہونے والے خاندان عوامی چوکوں اور سکولوں میں پناہ لے رہے ہیں، جبکہ یورپی ممالک اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر عالمی رہنماوں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی زمینی حملے کے لیے تیار ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
