نیولی پلیسانس میں گمشدہ بچے کی تلاش کا المناک انجام
فرانس کے شہر نیولی پلیسانس میں گذشتہ ہفتے سے لاپتہ 4 سالہ بچے میڈوا ڈیمبیلی کی تلاش کا سلسلہ المناک انجام کو پہنچ گیا ہے۔ بچے کے خاندان اور رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق سیکیورٹی کیمرے کی فوٹیج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچہ دریائے مارن میں گر گیا تھا۔
کیمرے کی فوٹیج نے صورتحال کی تصدیق کی
بچے کے گمشدہ ہونے کے واقعے کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم آپ کو انتہائی دکھ کے ساتھ یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ چھوٹے میڈوا کی تلاش کے سلسلے کو ختم کیا جا رہا ہے۔” 25 فروری کو بچہ نیولی پلیسانس میں دریائے مارن کے کنارے واقع کھیل کے میدان میں اپنے خاندان کی نگرانی سے اوجھل ہو گیا تھا۔
بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں
پیرس پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق آٹزم کا شکار میڈوا زبانی طور پر بات نہیں کر سکتا تھا اور وہ “دوڑتا ہوا پیروکس سر مارن کی طرف چلا گیا” تھا۔ گمشدگی کے بعد سے سینے-سینٹ-ڈینس، وال-ڈی-مارن اور پیرس کے محکموں میں 34 کلومیٹر کے علاقے میں سیکڑوں پولیس اہلکاروں اور فوجی دستوں نے تلاشی کارروائیاں جاری رکھی تھیں۔
رضاکاروں کی وسیع پیمانے پر شرکت
گزشتہ کئی روز سے مقامی رہائشیوں اور رضاکاروں کی بڑی تعداد بچے کو تلاش کرنے کے لیے سرگرم تھی۔ سماجی میڈیا پر گمشدگی کی اطلاعات وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی تھیں جبکہ زمینی تلاشی کارروائیوں میں رضاکاروں نے بھرپور حصہ لیا تھا۔
خاندان کے لیے ہمدردی کا اظہار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “ہم اس انتہائی تکلیف دہ دور میں ان کے خاندان اور عزیزوں کے لیے اپنی خلوص آمیز دعائیں بھیجتے ہیں۔” رضاکاروں نے خاندان کے غم کا احترام کرنے اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات ہی شیئر کرنے کی اپیل کی ہے۔
تلاشی کارروائیاں جاری رہیں گی
حکام نے تصدیق کی ہے کہ بچے کی لاش کو برآمد کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ خاندان کو آخری رسومات ادا کرنے کا موقع مل سکے۔ تلاشی کارروائیوں کو مربوط کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیڈکوارٹرز کو عوام کی مدد اور خاندان کی حمایت کے لیے کھلا رکھا جائے گا۔
