لاہور: لاہور پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ایک ایسے منفرد مجرمانہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں چھ سال قبل لاپتہ ہونے والی ایک خاتون کے جن کے ذریعے اغوا کیے جانے کا دعویـ کیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایات پر تشکیل دی گئی اس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن زیشان رضا کر رہے ہیں۔ ٹیم کو 18 ستمبر تک لاپتہ خاتون فوزیہ بی بی کو بازیاب کرانے اور عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
واقعے کی مبینہ ملزمہ حمیدان بی بی نے دعویـ کیا ہے کہ ان کی بیٹی مئی 2019 میں اچانک لاپتہ ہو گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوزیہ کے سسرال والوں کا اصرار تھا کہ اسے ایک جن اُٹھا لے گیا ہے، جس کے بعد سے ہی پولیس فرسٹ انفارمیشن رپورٹ درج ہونے کے بعد سے تاریکی میں ٹٹول رہی ہے۔
ڈی آئی جی زیشان رضا کے مطابق چیف جسٹس نے واقعے پر سخت نوٹس لیا جب پولیس کے اعلیٰ افسران نے بتایا کہ تمام ممکنہ کوششوں کے باوجود خاتون کو بازیاب نہیں کیا جا سکا۔ گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے سی سی پی او بلال صدیقی کامیانہ کو ذاتی طور پر عدالت میں حاضر ہو کر لاپتہ خاتون کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
ڈی آئی جی نے اس مقدمے کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جڑے کئی عجیب عوامل نے پولیس کو پریشان کر رکھا ہے۔ تحقیقاتی عمل کے لیے سب سے پریشان کن بات یہ رہی کہ خاتون کے سسرال والے جن کے اغوا کے دعوے پر قائم رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقدمے کی تحقیقات سی آئی اے کے دو سابق سربراہان کی نگرانی میں ہو چکی ہیں مگر خاتون کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس نے جیو فینسنگ اور 800 سے زائد موبائل نمبروں کے کال ڈیٹا ریکارڈز حاصل کیے، متعدد متعلقہ افراد کا پولی گراف ٹیسٹ بھی لیا گیا، مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں پولیس افسر نے کہا کہ یہ مقدمہ خاتون کی غیر متناسب شادی سے بھی جڑا ہو سکتا ہے، جس میں خاتون 35 سال جبکہ اس کا شوہر کم عمر تھا۔
خاتون کے پاس شناختی کارڈ نہ ہونا بھی ایک اہم نقطہ تھا جس نے پولیس کی تحقیقات کو مشکل بنا دیا۔ نادرا کے ڈیٹا بیس میں بھی خاتون کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ پولیس نے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور نجی کیمروں سے بھی مدد لی اور مقامی رہائشیوں سے رابطہ کیا، مگر ابھی تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ ڈی آئی جی زیشان رضا نے امید ظاہر کی کہ پولیس اس معمے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
