فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دنیا کے سب سے مشہور میوزیم، لوور، میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان تبدیلیوں میں مشہورِ زمانہ پینٹنگ مونا لیزا کو نئے نمائشی ہال میں منتقل کرنا بھی شامل ہے۔ صدر میکرون نے یہ اعلان مونا لیزا کے نمائشی کمرے میں کیا، جہاں انہوں نے اپنے منصوبے “نیو رینیساں” کے تحت میوزیم کو جدید بنانے کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا۔ اس منصوبے کے تحت مونا لیزا کو 2031 تک نئے نمائشی ہال میں منتقل کیا جائے گا، جہاں اسے دیکھنے کے لیے الگ سے ٹکٹ کی ضرورت ہوگی۔
صدر میکرون نے اس موقع پر بتایا کہ لوور میوزیم میں آنے والے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے ایک نئے داخلی راستے کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی مقابلہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ یہ داخلی راستہ مشہور شیشے کے ہرم (پیرامڈ) کے نیچے موجود دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ، جنوری 2024 سے غیر یورپی یونین کے رہائشیوں، بشمول برطانوی سیاحوں، کو میوزیم میں داخلے کے لیے زیادہ فیس ادا کرنی ہوگی۔
لوور میوزیم کے ڈائریکٹر لارنس ڈیس کارز نے حال ہی میں حکومت کو ایک خط میں متنبہ کیا تھا کہ میوزیم میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی خرابی سنگین مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیرامڈ، جو 1989 سے میوزیم کا واحد داخلی راستہ ہے، اب سالانہ 90 لاکھ سے زائد سیاحوں کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے مونا لیزا کی نمائش کو بھی ایک اہم مسئلہ قرار دیا، جہاں روزانہ تقریباً 30 ہزار سیاح صرف اس ایک پینٹنگ کو دیکھنے آتے ہیں۔
فی الحال، مونا لیزا کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کو ایک تنگ کمرے سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں انہیں پینٹنگ کو دیکھنے اور تصاویر لینے کے لیے اوسطاً 50 سیکنڈ کا وقت ملتا ہے۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ اس طرح سیاحوں کو فنکار کے کام کو سمجھنے کا موقع نہیں ملتا، جو میوزیم کے عوامی خدمت کے مشن پر سوالیہ نشان ہے۔
صدر میکرون کے منصوبے کے تحت، میوزیم کے مشرقی حصے کو بھی نئے سرے سے ڈیزائن کیا جائے گا، جہاں ایک نئے داخلی راستے کے ذریعے سیاحوں کو زیر زمین نمائشی ہال تک براہ راست رسائی ملے گی۔ یہ ہال پیرامڈ کے نیچے موجود علاقے سے منسلک ہوگا۔ صدر نے کہا کہ یہ تبدیلی میوزیم کو شہر کے ساتھ مزید مربوط کرے گی اور اسے “پیرس کے لوگوں کو واپس لوٹائے گی”۔
مونا لیزا کو اس کے موجودہ مقام سے منتقل کرنے سے نہ صرف اس کی بہتر نمائش ممکن ہوگی، بلکہ دیگر شاہکاروں کو بھی دیکھنے کا موقع ملے گا، جو فی الحال نظرانداز ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آنے والے سالوں میں میوزیم کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے، نئے واش رومز، ریسٹورنٹس اور آرام گاہوں کی تعمیر کا بھی منصوبہ ہے۔ اس پورے منصوبے کی لاگت کئی سو ملین یورو بتائی گئی ہے، جو ٹکٹ کی فروخت، عطیات اور لوور ابوظبی کے ساتھ اسپانسرشپ ڈیل سے پوری کی جائے گی۔
صدر میکرون، جن کی طاقت گزشتہ چھ ماہ میں فرانسیسی پارلیمنٹ میں اکثریت کھونے کے بعد محدود ہو گئی ہے، اپنی میراث کو محفوظ بنانے کے لیے نئے منصوبوں کی تلاش میں ہیں۔ نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی بحالی میں ان کی قیادت کو سراہا گیا تھا، اور اب وہ لوور میوزیم میں اسی طرح کے ایک بڑے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
