اداروں کو انکار پر انتباہ
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تمام سرکاری و نجی اداروں کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو فزیکل کارڈ کی طرح ہی قانونی حیثیت حاصل ہے۔
قانونی بنیاد
نادرا کے ترجمان کے مطابق، ڈیجیٹل شناختی کارڈ کو نادرا آرڈیننس کے تحت جاری کردہ ضوابط کے ذریعے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ریگولیشن 9 اور 10 کے تحت ڈیجیٹل شناختی اسناد کو شناخت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
موجودہ مسائل
اتھارٹی نے اعتراف کیا کہ متعدد سرکاری دفاتر اور تنظیمیں اب بھی شہریوں سے فزیکل کارڈ یا فوٹو کاپیاں طلب کرتی ہیں، جو موجودہ قانونی فریم ورک کے خلاف ہے۔
ڈیجیٹل کارڈ کے فوائد
- شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا بہتر تحفظ
- شناختی ڈیٹا کے غلط استعمال میں کمی
- فالتو فوٹو کاپیوں کی ضرورت ختم
ہدایات
نادرا نے درج ذیل اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل کارڈ کو قبول کرنے کے حوالے سے ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں:
- تمام سرکاری محکمے
- عوامی و مالیاتی ادارے
- ٹیلی کام آپریٹرز
شکایات کا نظام
شہری اگر کسی ادارے کی جانب سے ڈیجیٹل کارڈ قبول نہ کرنے کی صورت میں مشکلات کا سامنا کریں تو وہ نادرا کی سرکاری شکایت مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
نادرا کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل شناختی نظام نہ صرف شہریوں کی سہولت کے لیے ہے بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتا ہے۔
