تعلیمی وسائل میں کمی کے خلاف احتجاج
ہاٹس ڈی سین کے علاقے میں واقع کلشی کے نیوٹن ہائی اسکول میں اساتذہ اور نگران عملے نے بجٹ میں کٹوتیوں کے خلاف ہڑتال کر دی ہے۔ یہ احتجاجی کارروائی گذشتہ منگل سے جاری ہے جب اسکول انتظامیہ نے اگلے تعلیمی سال کے لیے تعلیمی وسائل میں کمی کا اعلان کیا۔
اساتذہ کے عہدوں اور کلاسوں کو خطرہ
فروری کے مہینے میں ہونے والے خصوصی انتظامی اجلاس کے بعد اسکول میں دو کلاسوں کے خاتمے اور 120 تدریسی گھنٹوں میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے اساتذہ کے مطابق اس کمی کا مطلب چار اساتذہ کے عہدوں کا خاتمہ، چھوٹے گروپس کی کلاسز بند ہونا، اور ہوم ورک میں مدد کے پروگرام کا خاتمہ ہے۔
ایک انگریزی کی استاد جین کا کہنا ہے کہ “ہمارا اسکول ہاٹس ڈی سین میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ادارہ ہے جبکہ ہمارے پاس پسماندہ طبقے کے طلبہ ہیں جنہیں مزید وسائل اور ذاتی توجہ کی ضرورت ہے۔” ان کا اپنا عہدہ بھی خطرے میں ہے۔
کلاس رومز میں ہجوم بڑھنے کا خدشہ
فی الحال کلاسوں میں طلبہ کی تعداد 30 سے 31 ہے لیکن اساتذہ کو خدشہ ہے کہ اگر وسائل میں کمی جاری رہی تو یہ تعداد بڑھ کر 35 تک پہنچ سکتی ہے۔ جین نے بتایا کہ “آج بھی ہماری کئی کلاسیں درست طریقے سے کام نہیں کر پا رہیں، مزید طلبہ کی صورت میں صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔”
انتظامیہ کی جانب سے جزوی رعایت
گذشتہ ہفتے اسکول کی نمائندہ ٹیم کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تعلیمی ڈائریکٹر نے 18 اضافی تدریسی گھنٹے دینے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم اساتذہ کی ٹیم 40 گھنٹوں کا مطالبہ کر رہی تھی تاکہ طلبہ اور عملے کے لیے مناسب کام کے حالات پیدا کیے جا سکیں۔
اساتذہ کے مطالبات
- چھوٹے گروپس کی کلاسز بحال رکھنے کے لیے ضروری گھنٹوں کا تحفظ
- ہر کلاس میں طلبہ کی تعداد 30 تک محدود رکھنا
- ایک اضافی تعلیمی معاون کے عہدے کا اجراء
انتظامیہ کا موقف
ورسیلز کے تعلیمی بورڈ کے مطابق تعلیمی وسائل کا تعین متوقع کلاسوں کی تعداد کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اگلے تعلیمی سال کے لیے دسویں اور بارہویں جماعت کی ایک ایک کلاس ختم کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “یہ فیصلے اسکول کے زیر اثر علاقے میں مڈل اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں کمی اور موجودہ سال میں گیارہویں جماعت میں کم تعداد کی وجہ سے کیے گئے ہیں۔”
مستقبل میں نظرثانی کا امکان
تعلیمی بورڈ نے نیوٹن ہائی اسکول کے معاشرتی و اقتصادی حالات کو مدنظر رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ وسائل کی مختص کاری کا عمل ابھی جاری ہے اور جون میں زبانوں اور خصوصی مضامین کے گروپس میں طلبہ کی حتمی تعداد دیکھ کر اسکول کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ستمبر تک حقیقی تعداد کے مطابق مزید تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔
