نیویارک/لندن: ایران کے ساتھ جاری تنازعے اور ہرمز کے آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیوں نے عالمی توانائی کی رسد کو درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں آسمان چھونے والا اضافہ
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت جمعہ کے روز 2.67 فیصد اضافے کے ساتھ 103.14 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی، جو اگست 2022 کے بعد پہلی بار 100 ڈالر کی سطح سے اوپر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کو “اگلے ہفتے سخت نشانہ بنانے” کے اعلان اور ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہرمز آبنائے بند رکھنے کی دھمکی نے تاجروں میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال کے طول پکڑنے کی صورت میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹیں سرخ
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مہنگائی اور شرح سود پر ممکنہ اثرات کے خدشات نے امریکی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں کو نیچے کی طرف دھکیل دیا۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 0.25 فیصد، ایس اینڈ پی 500 0.6 فیصد جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 0.9 فیصد گر کر بند ہوا۔ یورپ کے اسٹاکس 600 انڈیکس میں بھی 0.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ڈالر مضبوط، دیگر کرنسیاں دباؤ میں
بحران کے دوران محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت سے امریکی ڈالر میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ دیکھنے میں آیا، جو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں 0.8 فیصد مضبوط ہوا۔ یورو 0.8 فیصد گر کر 1.1417 ڈالر پر آیا جبکہ ین 159.66 فی ڈالر تک گر گیا، جو جولائی 2024 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کے امکانات ماند
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اٹھنے والے مہنگائی کے خدشات نے مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے بارے میں توقعات کو یکسر بدل دیا ہے۔ تاجر اب فیڈرل ریزرو سے سال کے آخر تک صرف 20 بنیادی پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں، جو گزشتہ ماہ کی 50 پوائنٹس کی توقع سے کہیں کم ہے۔ دو سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوار جمعرات کو چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
اگلے ہفتے مرکزی بینکوں کے اہم اجلاس
اگلے ہفتے فیڈرل ریزرو، بینک آف جاپان، یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ کی پالیسی میٹنگیں ہونے والی ہیں، جن میں سے زیادہ تر بینکوں کے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں اور جیو پولیٹکس پر مارکیٹ کی توجہ مرکوز ہے، جو مرکزی بینکوں کی پالیسی فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
