فوجی ذرائع کے مطابق تازہ ترین صورتحال
پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن غضب للہ حق کے تحت افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے 65 اڈوں اور حمایتی مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں گذشتہ ہفتے کے دوران کابل، قندھار، پکتیا اور سرحدی علاقوں میں کی گئیں جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہم ہدف تباہ ہوئے ہیں۔
قندھار ایئرفیلڈ پر تیل کے ذخائر تباہ
فوجی ذرائع نے جاری کیے گئے ویڈیو فوٹیج میں دکھایا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے 12-13 مارچ کی رات قندھار ایئرفیلڈ پر تیل کے ڈمپ سائٹس کو نشانہ بنایا۔ فوٹیج میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح دکھائے گئے ہیں جو حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق پاکستان آرمی نے ایئرفیلڈ پر تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو تباہ کیا جو افغان طالبان اور دہشت گرد گروہ اپنے آپریشنز کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر پر حملہ
ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کرتے ہوئے کابل میں 313 کور کے انفراسٹرکچر اور قندھار میں تاراوو دہشت گرد کیمپ کو تباہ کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے 12 اور 13 مارچ کی درمیانی رات چار دہشت گرد پناہ گاہوں کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا جن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی فوجی تنصیبات شامل تھیں۔ فضائی آپریشنز کے دوران قندھار ایئرفیلڈ پر تیل ذخیرہ کرنے کے مقام اور اس سے ملحقہ لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔
روسی ساختہ ہتھیار برآمد
ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی نے ژوب سیکٹر میں افغان طالبان کے چھوڑے گئے مورچوں سے روسی ساختہ بھاری گرنیڈ لانچر برآمد کیے ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للہ حق کے دوران جب طالبان اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگے تو انہوں نے اپنے ہتھیار اور سازوسامان پیچھے چھوڑ دیے۔
سرحدی محاذوں پر کارروائیاں جاری
سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے قریب صادق گاؤں کے نزدیک افغان طالبان اور فتنہ الخوارج سے منسلک دہشت گردوں کی سرحد پار کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشنز جاری ہیں اور یہ گروہ متعدد محاذوں پر سخت مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔
آرندو، کرم اور ژوب سیکٹرز میں ہدف
پاکستان کی مسلح افواج نے آرندو، کرم اور ژوب سیکٹرز میں افغان طالبان کے مورچوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق تول سیکٹر میں پاکستان-افغانستان سرحد کے قاقع افغان طالبان کے کئی مورچے تباہ کیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان آرمی سرحد پار جارحیت کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن ردعمل دے رہی ہے۔
آپریشن کے اہداف حتمی تک جاری رہیں گے
سیکیورٹی ذرائع کا اصرار ہے کہ آپریشن غضب للہ حق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 641 افغان طالبان اور دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فوجی ذرائع نے افغان طالبان کی جانب سے دعویٰ کردہ جنگ میدان میں فتوحات کو محض پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔
