واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی نمائندے آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے تاکہ واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کیے جا سکیں۔ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ $3 بلین کے تجارتی سرپلس کی بناء پر 29 فیصد درآمدی ٹیرف کا سامنا ہے، جو کہ واشنگٹن کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک پر لگائے گئے ٹیرف کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان باہمی ٹیرف پر باضابطہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ تصدیق کی کہ پاکستانی وفد اگلے ہفتے امریکہ آئے گا۔
مزید برآں، امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کی جانب پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کے ساتھ معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتے اگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فوجی تصادم کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر فضائی حملے کیے تھے۔ تاہم امریکی مداخلت کے باعث 10 مئی کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔
اس دوران پاکستانی وفد، جس کی قیادت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، نیویارک میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں اور دیگر بین الاقوامی نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔ یہ وفد 3 جون کو واشنگٹن روانہ ہوگا جہاں وہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔
پاکستانی حکام نے صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہا ہے، جنہوں نے حالیہ کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، بھارت نے امریکی مداخلت کا انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی پاکستان کی طرف سے بغیر کسی مدد کے خود ہی کی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ کے بیانات کو اسلام آباد میں پاکستانی وفد کے لیے حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کے دعوے کی حمایت کرتے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے امریکہ کے مزید کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
یہ دورہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاہے صدر ٹرمپ کا کردار مبالغہ آمیز ہو، حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی دباؤ، بشمول واشنگٹن کا، ایک عنصر تھا۔
