پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا
اسلام آباد: پلاننگ کمیشن سے منسلک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پیڈ) کے ایک حالیہ مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے خلل کے لیے پاکستان کی معیشت انتہائی غیر محفوظ ہے۔
مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ عالمی تیل کی رسد میں معمولی جھٹکا بھی فوری طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، افراط زر میں شدت اور پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹس پر دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
تیل کی درآمدات میں 384 ملین ڈالر تک اضافے کا خدشہ
“پاکستان کا آبنائے ہرمز کے جھٹکے سے متاثر ہونا: ایندھن کی قیمت سازی، افراط زر اور بیرونی کمزوری” کے عنوان سے اس تحقیق میں تین ممکنہ منظرناموں—ہلکا، درمیانہ اور شدید جھٹکا—کے تحت اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
- ہلکے جھٹکے کی صورت میں چھ ماہ کے اندر افراط زر 8.8 فیصد تک جا سکتا ہے۔
- درمیانے منظرنامے میں یہ شرح 10.4 فیصد سے تجاوز کر کے میکرو اکنامک سطح پر تشویشناک ہو سکتی ہے۔
- شدید جھٹکے کی صورت میں افراط زر 12 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
- ماہانہ پٹرولیم درآمدات کی قیمت 384 ملین امریکی ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔
- شدید صورت حال میں بیرونی اکاؤنٹس پر سالانہ 4.6 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
ڈیزل کی قیمت خوراک کی مہنگائی کا اہم محرک
مطالعے میں ایک اہم انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) افراط زر کی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ ملک کے نقل و حمل، زرعی پیداوار اور خوراک کی سپلائی چینز میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست خوراک کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، عالمی تیل کے جھٹکے کا اثر صرف خام تیل کی قیمت تک محدود نہیں رہتا بلکہ بحری کرایہ، جنگ کے خطرے کے انشورنس پریمیم، زر مبادلہ کی شرح میں کمی اور ٹیکسز میں اضافہ مل کر گھریلو قیمتوں پر دہرا دباؤ ڈالتے ہیں۔
بیرونی اکاؤنٹس پر منفی اثرات
آبنائے ہرمز میں خلل پاکستان کے بیرونی توازن کو بھی غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ مطالعے کے مطابق، بیرونی ادائیگیوں کا بیلنس چند ماہ کے اندر سرپلس سے ڈیفسٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے روپے کی قدر میں مزید کمی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور افراط زر میں شدت کا ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے۔
فوری پالیسی اقدامات کی سفارش
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مطالعے میں فوری اور مربوط پالیسی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے، جن میں شامل ہیں:
- شفاف، قواعد پر مبنی ایندھن قیمت سازی کا میکانزم اپنانا۔
- ڈیزل کی قیمتوں اور سپلائی پر خصوصی نگرانی۔
- اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے درمیان ہم آہنگی مضبوط کرنا۔
- ضروری سپلائی چینز اور عوامی نقل و حمل کو ہدف بنیاد پر سپورٹ فراہم کرنا۔
- بیرونی اکاؤنٹس کے تحفظ کے لیے ایندھن کی مالیات کی پیشگی منصوبہ بندی۔
طویل مدتی حل کے طور پر ڈیزل پر انحصار کم کرنے اور توانائی کے شعبے کی لچک بڑھانے کے لیے ساختی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
پیڈ کا پیغام واضح ہے: پاکستان کی عالمی توانائی کے جھٹکوں سے متاثر ہونے کی صلاحیت عام طور پر سمجھی جانے والی حد سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل محض ایک بیرونی واقعہ نہیں، بلکہ یہ گھریلو معاشیات پر پڑنے والے ایک بڑے جھٹکے کا پیش خیمہ ہے۔
