اسلام آباد: یکم مارچ 2026ء کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 8 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا، لیکن محض پانچ دن بعد 6 مارچ کی رات ایک اور بڑا فیصلہ سامنے آیا جب پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اچانک اضافہ کر دیا گیا۔
ایک رات میں 82 ارب روپے کا انوینٹری فائدہ
اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں اس وقت تقریباً 1.5 ارب لیٹر پٹرول اور ڈیزل ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور پٹرول پمپوں کے زیر زمین ٹینکوں میں موجود تھا۔ ہر لیٹر پرانے، کم قیمت پر خریدا گیا تھا، لیکن آدھی رات کے بعد وہی ایندھن نئی، زیادہ قیمت پر فروخت ہونے لگا۔
یوں محض ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے 82 ارب روپے کا فوری اور غیر متوقع مالی فائدہ (ونڈ فال) ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پٹرول پمپ ڈیلرز میں تقسیم ہو گیا۔
کسے ملا کتنا حصہ؟
تفصیلی تجزیے کے مطابق اس 82 ارب روپے کے ونڈ فال کو مندرجہ ذیل فریقین میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- حکومت: نظام میں موجود 1.5 ارب لیٹر ایندھن پر جی ایس ٹی کی صورت میں اضافی 14.9 ارب روپے وصول ہوں گے۔
- ریفائنریاں: ملک کی پانچ ریفائنریوں کے پاس تقریباً 55 کروڑ لیٹر ریفائنڈ پروڈکٹ موجود تھی۔ 55 روپے فی لیٹر کے حساب سے ان کا اجتماعی ونڈ فال تقریباً 30 ارب روپے بنتا ہے۔
- آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs): ان کے ڈپوؤں اور ٹرمینلز میں تقریباً 60 کروڑ لیٹر ایندھن موجود تھا۔ اس کا اجتماعی فائدہ تقریباً 33 ارب روپے ہے۔
- پٹرول پمپ مالکان: ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار پٹرول پمپوں کے زیر زمین ٹینکوں میں تقریباً 17 کروڑ لیٹر ایندھن موجود تھا۔ 55 روپے فی لیٹر کے حساب سے ڈیلرز کا کل ونڈ فال تقریباً 9.4 ارب روپے بنتا ہے، یعنی اوسطاً ہر پمپ کو 7 لاکھ 83 ہزار روپے کا غیر متوقع فائدہ ہوا۔
عام صارف: “وہ میز نہیں، میز پر رکھا کھانا تھے”
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 55 روپے فی لیٹر قیمت میں اضافے کی میز پر چار فریقین (حکومت، ریفائنریاں، OMCs، ڈیلرز) بیٹھے تھے اور سب نے فائدہ اٹھایا۔ پانچواں فریق، یعنی موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، چھوٹا تاجر اور یومیہ مزدور، اس میز پر مدعو تک نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ “وہ میز نہیں تھے، بلکہ میز پر رکھا کھانا تھے” جو اگلی صبح جاگ کر ہی 55 روپے فی لیٹر زیادہ ادا کرنے پر مجبور ہوئے، بغیر کسی انوینٹری یا اضافی مارجن کے۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جبکہ وزیر خزانہ نے 4 مارچ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا تھا کہ ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے اور پٹرول و ڈیزل کے ذخائر 28 دنوں کے لیے کافی ہیں۔
