پاکستان آج کل داخلی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسند گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی فوجی ترجمان ادارے نے اعلان کیا کہ بارہ دہشت گردوں کو ان دونوں صوبوں میں کارروائیوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔ تاہم، ان کارروائیوں کے دوران کئی سکیورٹی اہلکار بھی شہید ہو گئے۔
شمالی وزیرستان میں چار اہلکار “بھارت کے حمایت یافتہ” خوارج کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے، جبکہ جیوانی میں دو کوسٹ گارڈ اہلکار ایرانی سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے حملے کا نشانہ بنے۔ ان خطرات سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
میڈیا میں ایسی خبریں بھی آئیں ہیں کہ افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے اپنے جنگجوؤں کو پاکستانی فورسز کے خلاف حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔ مگر ان ہدایات کا اثر نہیں ہوا کیونکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ افغان طالبان کو اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہوئے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کو استعمال ہونے سے روکنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
بیجنگ میں افغانستان، پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی سہ فریقی ملاقات میں اس اصول پر زور دیا گیا تھا کہ تینوں ممالک دہشت گردی کی تمام اقسام کی مخالفت کریں گے۔ پاکستان اور چین کو چاہیے کہ وہ کابل کو اس عزم کی یاد دہانی کرائیں۔
بلوچستان کے معاملے میں، ایران کے ساتھ تعلقات عمومی طور پر دوستانہ ہیں، اور دونوں ممالک کو انسداد دہشت گردی میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہیے۔ بلوچستان کی علیحدگی پسندی کے مسئلے کے حل کیلئے انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو سیاسی عمل کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کامیابی کیلئے بین الاقوامی دوستانہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کی اشد ضرورت ہے، ساتھ ہی اندرونی سکیورٹی اقدامات اور انٹیلی جنس آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد سیلوں کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے ماضی میں بیرونی جارحیت کو ناکام بنایا ہے، اور اسی عزم کے ساتھ اندرونی دہشت گرد خطرات کا بھی سدباب کیا جا سکتا ہے۔
