فوجی سربراہ اور سعودی وزیر دفاع کا مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اہم اجلاس
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان ہونے والے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مملکت پر ایرانی حملوں پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ
سعودی وزیر دفاع نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ملاقات ان حملوں کو روکنے کے طریقوں پر مرکوز تھی، جو ان کے بقول خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مفید نہیں ہیں۔ یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد منعقد ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے بشمول سعودی عرب میں امریکی اڈوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
ایران سے دانشمندانہ رویے کی امید
شہزادہ خالد بن سلمان نے اپنے بیان میں کہا، “ہم نے اپنے دونوں بھائیوں ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تحت مملکت پر ایرانی حملوں اور ان حملوں کو روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مفید نہیں ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایرانی جانب دانش اور عقل کو ترجیح دیں گی اور غلط حساب کتاب سے پرہیز کریں گی۔”
دفاعی معاہدے کی اہمیت
پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر جارحیت سمجھا جائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس سے دہائیوں پرانے سیکیورٹی شراکت داری کو مزید تقویت ملی۔
حالیہ حملوں کی صورتحال
سعودی وزارت دفاع کے مطابق ہفتے کے روز خالی Quarter میں واقع شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ منگل کے روز ریاض میں واقع امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملے سے معمولی آگ بھڑک اٹھی، جس میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم، ایران کے سعودی عرب میں سفیر علی رضا عنایتی نے واضح طور پر انکار کیا ہے کہ ان کے ملک نے امریکی مشن پر حملہ کیا ہو۔
