اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے ایک رافیل لڑاکا طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین میں تیار کردہ جے-10 سی طیاروں نے بھارتی رافیل سمیت پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا۔
فرانس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے بھارتی طیارے کو رات بھر جاری رہنے والی جھڑپوں میں نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پاکستان نے مزید رافیل طیارے بھی مار گرائے ہیں۔
پاکستانی فوج کے مطابق لائن آف کنٹرول پر حالیہ حملوں کے دوران کم از کم 31 شہری ہلاک اور 57 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کارروائی کو “جوابی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج نے بھارتی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر حملے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ پاکستانی حکام نے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر کی سرحد پر جاری تنازعے کے دوران رافیل طیارے کو مار گرائے جانے سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسیع تر دفاعی شراکت داروں کے درمیان بھی نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
بھارتی حکام نے حملے کے بارے میں کہا کہ نئی دہلی نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا جواب دینے اور انہیں روکنے کے حق کا استعمال کیا ہے۔ فرانس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن وہ بھارتی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت نے فرانس کے ساتھ 2016 میں 36 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد اپنے فضائی بیڑے کو جدید بنانا تھا۔ کشیدگی میں اضافہ خطے کے مستقبل کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
