راولپنڈی میں علماے اہل تشیع سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہم ملاقات
راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایف) اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کر دیا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی جذبات کو استعمال کر کے ملک میں فساد برپا کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے ناکام بنایا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جمعرات کو راولپنڈی میں علماے اہل تشیع کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس ملاقات میں قومی سلامتی کے امور اور معاشرتی ہم آہنگی میں علماء کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
علما کے کردار اور قومی یکجہتی پر زور
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملکی یکجہتی، رواداری اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں علماء کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات، فرقہ وارانہ بیانیے اور بیرونی ممالک کی طرف سے مسلط کردہ عدم استحکام کی کوششوں کے خلاف علماء کی رہنمائی نہایت اہم ہے۔
سی ڈی ایف نے ملاقات میں شامل علماء کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں اور پرامن اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
افغان سرزمین کے استعمال کی واضح انتباہ
آپریشن غضب للہٰی کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین کو اپنے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کو ختم کر دیا جائے گا، چاہے وہ کہیں بھی موجود ہوں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو روکیں۔
علماء کا امن اور استحکام کے لیے عزم
ملاقات میں شامل علماء نے امن اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا اور مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی ہر شکل کو سختی سے مسترد کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ علماء نے ملک میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
اس ملاقات کو ملک کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور بیرونی اثرات سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
