پیرس: منگل کی شام ایک سلسلے کی جھوٹی کالز نے شہر کے مختلف تعلیمی اداروں اور آرک ڈی ٹرائومف کے نیچے بموں کی موجودگی کی اطلاع دی۔ اگرچہ بعد میں ان تمام شکایات کو غلط قرار دے دیا گیا، مگر ان کالز نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد کو متحرک کر دیا اور کئی علاقوں کو گھیرے میں لینے کی ضرورت پیش آئی۔
لیوالوا پرے کے پولیس اسٹیشن کو ایک شخص کی جانب سے کال موصول ہوئی جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے آرک ڈی ٹرائومف کے نیچے بم رکھا ہے۔ اسی شام، 19:30 پر، ژاں زے ہائی اسکول کے اندر خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک نامعلوم شخص نے کال کی اور خود کو “محمد” بتایا، اس نے کہا کہ اس نے ایک بم رکھا ہے جو پھٹنے کے لیے تیار ہے۔ پندرہ منٹ بعد پولیس موقع پر پہنچی، حفاظتی حصار قائم کیا اور وہاں موجود 200 طلباء اور قریبی پورٹ رویال-سنٹر لورچین کے طلباء کو فوری طور پر نکال لیا۔
پورٹ رویال بولیورڈ اور ملحقہ سڑکوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ بسوں کی روٹ بھی تبدیل کر دی گئی۔ یہ سلسلہ 22:30 تک جاری رہا جب کہ بم ڈسپوزل ٹیم نے کسی خطرے کا امکان ختم کر دیا۔
اسی شام ایک اور تعلیمی ادارے میں بھی ایک ایسی ہی کال موصول ہوئی۔ فلپ لی کلیرک ہائی اسکول میں، 20:15 پر کال کرنے والے نے اسکول کی ڈائریکٹر کو بتایا کہ وہاں چار بم رکھے گئے ہیں اور ان کی دھمکی کو ختم کرنے کے لیے 30,000 یورو کی تاوان کا مطالبہ کیا۔ اس کے نتیجے میں وہاں موجود تمام طلباء کو نکال لیا گیا اور اسکول رات کے لیے بند کر دیا گیا۔
پیرس کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کو “بہت سنجیدگی” سے لیا گیا ہے۔ اگرچہ اکثر اوقات ایسی اطلاعات جھوٹی ثابت ہوتی ہیں، مگر حفاظتی وجوہات کی بنا پر تحقیقات ضروری ہوتی ہیں۔ پیرس کی پراسیکیوٹر آفس نے بھی ان دھمکیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جن میں جھوٹی معلومات پھیلانے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات شامل ہیں۔
مزید برآں، لیوالوا پرے کے پولیس اسٹیشن نے منگل کی رات ایک اور کال موصول کی جس میں ایک شخص نے خود کو “دہشت گرد اور القاعدہ کا رکن” ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے آرک ڈی ٹرائومف کے نیچے متعدد بم رکھے ہیں اور وہ بھی تاوان کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے بعد ایک خصوصی ٹیم نے خطرے کا جائزہ لینے کے بعد اسے بھی جھوٹی اطلاع قرار دیا۔
یہ واقعات پیرس کے شہریوں کے لیے ایک نیا خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں، جبکہ پولیس کی جانب سے ان دھمکیوں کی سنجیدگی کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
