پیرس: پیرس کے عجائب گھروں میں تعینات ثقافتی ماہرین، جن میں گائیڈز، لیکچررز اور کہانیاں سنانے والے شامل ہیں، اپنی ملازمت کی غیر یقینی صورتحال اور 17 سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ ماہرین منگل کو ہڑتال پر ہیں۔
یہ احتجاج پیرس میوزیز کے تمام بڑے اداروں، بشمول پتی پالی، کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ ادارہ شہر کے عجائب گھروں کی انتظامیہ کا ذمہ دار ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں فی گھنٹہ 13 یورو ادا کیے جاتے ہیں، جس میں گزشتہ 17 سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
ثقافتی ثالثی پر ایک آڈٹ نے ان کشیدگیوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے ملازمت کے فریم ورک کو بجٹ کی پابندیوں اور عملے کی کمی کے باعث خطرہ لاحق ہے۔ 2008 میں ان کی ملازمت کو کنٹریکٹ پر لایا گیا تھا، جس کے تحت ان میں سے بیشتر کو جزوقتی ملازمت پر رکھا گیا تھا۔
ماہرین کی تعداد میں کمی
ماہرین کا کہنا ہے کہ “ہم ثقافتی ثالثی کے ماہرین ہیں، جن میں لیکچررز، فنکار اور کہانیاں سنانے والے شامل ہیں۔ 2012 میں 45 معاہدے تھے، لیکن اب ہم صرف تیس رہ گئے ہیں۔”
ان کا دعویٰ ہے کہ 77 فیصد خواتین ان حالات کا شکار ہیں، حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ تعلیمی قابلیت (بیچلر +4، +5) اور 17 سال سے زائد کا تجربہ ہے۔
ان کی مطالبات واضح ہیں: “اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے مطابق تنخواہ، تجربے اور سینیارٹی کا اعتراف، اور کیریئر کی وہی ترقی جو زمرہ A کے مستقل ملازمین کو ملتی ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ “کام کی آزادی کو برقرار رکھنا ضروری ہے، جو ہمارے پیشے کی خصوصیت سے جڑی ہے۔”
یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پیرس میوزیز میں سماجی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں کیٹاکومبس نے دو ہفتے کی ہڑتال کے بعد اپنے دروازے کھولے، جس میں ملازمین نے وقت کی نگرانی کے لیے نصب کیے گئے نئے نظام کے خلاف احتجاج کیا۔ اس تنازعہ کا اختتام انتظامیہ کے ساتھ معاہدے پر ہوا۔
