وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے دوسرا بحری بیڑا تیار کرنے کی ہدایت دی ہے
واشنگٹن: ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے امریکی پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی ادارے نے ایک اور بحری بیڑے کو تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو ایک انٹرویو میں کہا تھا، “ہمارا ایک بحری بیڑا وہاں جا رہا ہے اور دوسرا بھی روانہ ہو سکتا ہے۔” انہوں نے خبردار کیا تھا کہ “یا تو ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا پھر ہمیں پچھلی بار کی طرح سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔”
یو ایس ایس بش ممکنہ امیدوار
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس فیصلے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن دوسرا بحری بیڑا یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش ایئر کرافٹ کیریئر پر مشتمل ہو سکتا ہے جو فی الحال ورجینیا کے ساحل پر تربیتی مشقیں مکمل کر رہا ہے۔ روانگی کے بعد اسے خطے میں پہنچنے میں دو ہفتے لگیں گے۔
اس وقت پہلا امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل ہے جو پہلے ہی خلیج فارس میں تعینات ہے۔ اس بیڑے میں جدید ترین F/A-18E سپر ہارنیٹ لڑاکا طیارے، نگرانی کے لیے ہاک آئی طیارے، EA-18G گروالر الیکٹرانک وارفیئر طیارے اور F-35C طیارے شامل ہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
یہ فوجی تعیناتی اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں گذشتہ دسمبر کے آخر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ان مظاہروں میں 30,000 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام نے پہلے ہی متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کارروائی کو جنگ سمجھیں گے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے گذشتہ ماہ کہا تھا، “ہم کسی بھی حملے کو ہم پر مکمل جنگ سمجھیں گے اور اس کا انتہائی سخت جواب دیں گے۔”
امریکی اتحادوں میں اختلاف
امریکی اتحادی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے عوامی طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ خطے میں عدم استحکام کے خدشات ہیں۔
امریکی فوجی حکمت عملی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تنازعات کے دوران، جیسے غزہ کی لڑائی اور ایران کے جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی آپریشن کے وقت، واشنگٹن کے پاس خطے میں دو ایئر کرافٹ کیریئر موجود تھے۔
اس تازہ ترین فوجی تعیناتی سے خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
