اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے مشاورت کی دعوت دی ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب موجودہ چیف الیکشن کمشنر کا دورانیہ جنوری میں ختم ہو چکا ہے۔
پاکستان کے آئین کے مطابق نئے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو اراکین کی تقرری کا عمل 12 مارچ تک مکمل ہو جانا چاہئے تھا، تاہم حکومت کی جانب سے تاخیر کی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 215(4) کے تحت یہ تقرریاں 45 دن کے اندر مکمل کی جانی ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو 16 مئی کو ایک خط لکھا گیا جس میں انہیں مشاورت کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا دورانیہ 27 جنوری کو ختم ہو چکا ہے اور وہ آئین کی شق 215 کے تحت عہدے پر فائز ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ آئین کی شق 213(2A) اور 218(2)(b) کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے اراکین کے لئے تین تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے تاکہ ان کی تصدیق کی جا سکے۔ اپوزیشن لیڈر کو آئینی شق 213(2A) کے تحت مشاورت کے لئے مدعو کیا گیا تاکہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقرری کے لئے تین تین نام حتمی کئے جا سکیں۔
ایاز صادق کے خلاف نااہلی ریفرنس کی سماعت 1 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے کیونکہ انہوں نے بجٹ سیشن میں شرکت کرنی ہے۔ اس ریفرنس کو سابق ایم این اے بابر نواز نے دائر کیا تھا، جو 2024 کے عام انتخابات میں ایاز صادق سے 82,000 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔
ایاز صادق نے کہا کہ وہ ابھی تک وکیل مقرر نہیں کر سکے اور بجٹ اجلاس میں شرکت کی وجہ سے وقت مانگا۔ الیکشن کمیشن نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 1 جولائی تک ملتوی کر دی۔
سماعت کے بعد ایاز صادق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریفرنس بغیر سوچے سمجھے بھیجا گیا ہے اور اسپیکر نے ان سے مشاورت نہیں کی۔ 2018 کے انتخابات میں بھی انہوں نے اپنے مخالف کو 40,000 ووٹوں سے شکست دی تھی۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الیکشن کمیشن کی تقرری کے حوالے سے مشاورت کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہوا، جبکہ بجٹ سیشن کی تیاری بھی جاری ہے۔
