پیرس، 4 مارچ 2025 – اوٹس دے سین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ وہ جون 2023 میں نانتیئر میں نہل مرزوک کے قتل کے الزام میں ایک پولیس افسر پر قتل کا مقدمہ چلانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد پولیس یونینز کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جنہوں نے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ افسر کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔
نہل مرزوک کی ہلاکت نے 2023 میں فرانس میں وسیع پیمانے پر فسادات کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں پولیس کے طریقہ کار پر شدید تنقید ہوئی۔ اس وقت مذکورہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی تجویز کو پولیس یونینز کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہے، جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ “قتل” کا الزام واضح طور پر جان بوجھ کر قتل کرنے کی نیت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ ڈیوٹی پر موجود افسران کی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پراسیکیوٹر کے فیصلے کے جواب میں، پولیس یونین Un1té نے ایک بیان جاری کیا جس میں قتل کے الزام کی وجوہات پر سوال اٹھایا گیا، یہ بتاتے ہوئے کہ افسران بنیادی طور پر اسلحہ کو روک تھام کے لیے ساتھ رکھتے ہیں، نہ کہ مہلک استعمال کے ارادے سے۔ الائنس پولیس نیشنل نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسران اپنی ڈیوٹی کا آغاز جان لینے کی خواہش کے ساتھ نہیں کرتے۔
اس مقدمے کے ممکنہ اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر ان حالات میں جب عوامی نافرمانی کا سامنا ہو۔ الائنس پولیس نیشنل نے سوال اٹھایا کہ آیا افسران اہم لمحات میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو جائیں گے، جو ان کی اپنی حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
Un1té نے افسران کے لیے مخصوص عدالتی عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پولیس اقدامات کے معاملات کے لیے خصوصی مجسٹریٹس کی کورپس کے قیام کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب، الائنس پولیس نیشنل نے 5 مارچ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جس میں افسران کو فرانس بھر کے پولیس اسٹیشنوں کے باہر جمع ہونے کی ترغیب دی جائے گی تاکہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھا سکیں، جسے وہ غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔
پراسیکیوٹر نے مقدمے کی تجویز پیش کی ہے، لیکن حتمی فیصلہ تفتیشی جج پر منحصر ہوگا، جو یہ طے کرے گا کہ آیا یہ کیس مجرمانہ عدالت میں آگے بڑھے گا یا نہیں۔
