کراچی: عالمی تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے باعث جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے ماحول نے مہنگائی اور ایندھن کی لاگت کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں منافع کشی کا رجحان دیکھا گیا۔
بینچ مارک انڈیکس میں 2.3 فیصد کمی
پی ایس ایکس کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 154,292.25 پوائنٹس کی گزشتہ بندش کے مقابلے میں 152,698.51 پوائنٹس کی بلندی اور 150,728.17 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر ٹریڈ کرتے ہوئے اختتام کو 2.3 فیصد کمی کے ساتھ 3,564.08 پوائنٹس نیچے بند ہوا۔ اس سے ایک روز قبل بدھ کو انڈیکس میں 2.85 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کا تجزیہ
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو احفاز مصطفیٰ نے اس گراوٹ کی وجہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے سے پیدا ہونے والے حالات کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، “قطر کے ایل این جی فیلڈ پر تازہ حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ متوقع ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور میکرو اکنامک اشاروں کی خرابی بھی منفی جذبات کا باعث بن رہی ہے۔”
قطر کے گیس ہب پر حملے، سپلائی کے خدشات
قطر انرجی نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ایرانی میزائل حملوں کے دو سلسلوں کے بعد ملک کے مرکزی گیس ہب، راس لفان انڈسٹریل سٹی کو “وسیع پیمانے پر نقصان” پہنچا ہے۔ حملوں میں ایک گیس ٹو لیکویڈز سہولت کو نقصان پہنچا جبکہ بعد ازاں کئی لیکویفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) سہولیات پر بڑی آگ بھی پھیل گئی۔ قطری وزارت داخلہ کے مطابق تمام آگوں پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کو تنبیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو قطر کے گیس پلانٹ پر مزید حملوں سے روکتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو تباہ کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے ساؤتھ پارس کی سہولیات پر حملہ کیا تھا لیکن امریکہ کو اس حملے کے بارے میں “کچھ معلوم نہیں تھا”۔ یہ میگا فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا معلوم گیس ذخیرہ ہے جو ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ ہے۔
سعودی عرب کی ریفائنریز بھی خطرے میں
سپرلے کے خدشات سعودی عرب تک پھیلے ہوئے ہیں۔ خطے کی سب سے بڑی ریفائنریز میں سے ایک، راس تنورہ کمپلیکس، جس کی صلاحیت 550,000 بیرلز یومیہ ہے، اس تنازعے کے دوران بار بار نشانہ بن چکی ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس ریفائنری میں آپریشنز دوبارہ شروع کر دیے گئے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ
ان حالات کے پیش نظر جمعرات کو عالمی تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا، جس میں برینٹ کروڈ اپنے عروج پر 112 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق خلیجی ممالک کی تیل اور تیل کی مصنوعات کی پیداوار گزشتہ سال کے 30 ملین بیرلز یومیہ سے گر کر فی الحال 20 ملین بیرلز یومیہ رہ گئی ہے۔
مارکیٹ کے مبصرین کا خیال ہے کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کے لیے مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
