عید کی رقوم وصول کرنے کے لیے جمع خواتین پر المناک حادثہ
پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت نقد رقم کی تقسیم کے دوران ایک دکان کی چھت گرنے سے کم از کم 8 خواتین جاں بحق ہو گئیں جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ضلعی پولیس افسر عرفان سمو نے بتایا کہ یہ واقعہ چک 123 پی میں اس وقت پیش آیا جب خواتین عید الفطر سے قبل حکومتی فلاحی رقوم وصول کرنے کے لیے جمع ہوئی تھیں۔
بھیڑ کے بوجھ سے چھت گرنے کا انکشاف
ایمرجنسی خدمات کے حکام کے مطابق، بھیڑ کے بوجھ کے باعث دکان کی چھت گر گئی۔ ایک عہدیدار کے مطابق، دکاندار نے 100 سے زائد خواتین میں سے کچھ کو چھت پر بھیج دیا تھا جبکہ باقی اندر موجود تھیں۔ ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں اس واقعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں پانچ افراد بشمول پرائیویٹ ریٹیلر کے ڈیوائس ایجنٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔
زخمیوں کو ہسپتال منتقل، کئی کی حالت تشویشناک
ڈی پی او عرفان سمو نے بتایا کہ ڈیوائس ایجنٹ کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہایا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں اور پولیس اہلکاروں نے ملبے میں پھنسے ہوئے افراد کو نکال کر شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق، متعدد زخمیوں کو سر میں چوٹیں، ٹانگوں اور بازووں کے فریکچرز آئے ہیں جبکہ کئی متاثرین کی حالت تشویشناک ہے۔
صدر مملکت اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اس المناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، ریسکیو آپریشن جلد مکمل کرنے اور سندھ حکومت سے عمارتی قوانین کی پاسداری، گیس سلنڈرز کی حفاظت کی جانچ اور مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھ واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کی۔
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن کی تشویش
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے بھی اس سانحے پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستفید ہونے والی خواتین نے پروگرام پر اعتماد کرتے ہوئے اس سے مدد اور تحفظ کی امید کی تھی۔
رمضان میں امدادی مراکز پر ہجوم کا خطرہ
یہ تازہ ترین سانحہ امدادی مراکز پر ہجوم کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے جو پاکستان میں رمضان المبارک کے دوران ایک بار بار پیش آنے والا مسئلہ ہے۔ اس سے قبل بھی رمضان میں حکومتی اداروں، خیراتی تنظیموں اور کاروباری مراکز کی جانب سے خوراک یا نقد رقم کی تقسیم کے دوران ہجوم اور رش کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 2023 میں کراچی کے ایک تقسیمی مرکز پر سینکڑوں افراد کی رش کے دوران کم از کم 11 خواتین اور بچے جاں بحق ہو گئ تھے۔
