یوکرین میں روسی حملوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے اور ان حملوں کا ہدف اب محاذ سے دور عام شہری بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق روسی فوج اب ایسے بم استعمال کر رہی ہے جو شہری علاقوں کے اوپر فضا میں پھٹتے ہیں، جس سے ان کا مہلک اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری سے اپریل 2025 کے دوران ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ حملے عموماً زیادہ گہما گہمی والے اوقات میں ہوتے ہیں اور ان کے قریب کوئی عسکری ہدف نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ہیومن رائٹس واچ نے انہیں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرائم قرار دیا ہے۔
یہ حملے نہ صرف شہری علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بھی بڑھا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر 4 اپریل کو ایک روسی بم کریوی ریہ کے ایک پارک کے اوپر پھٹا، جہاں لوگ شام کے وقت تفریح کے لیے موجود تھے۔ ایسے واقعات روسی فوج کی نئی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
یہ صورت حال بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے اور مختلف ملکوں میں روس کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ یوکرین کی حکومت اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی برادری سے روس پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ ان حملوں کا سلسلہ روکا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
