روس نے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں ایک نئے ایٹمی صلاحیت کے حامل میزائل R-37M کو شامل کر لیا ہے، جو دنیا کا تیز ترین میزائل کہا جا رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے انٹیلیجنس ایجنسی کے مطابق، روس نے اپنے ایئر-ٹو-ایئر میزائل R-37M کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جس میں اب ایٹمی وار ہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔
یہ میزائل 2019 میں خدمات میں شامل ہوا تھا اور نیٹو کی جانب سے اسے AA-13 Axehead کا نام دیا گیا تھا۔ R-37M کی خاصیت اس کی تیز رفتاری ہے جو ماخ 6 تک پہنچ سکتی ہے، یعنی 7,400 کلومیٹر فی گھنٹہ۔ اس میزائل کو روسی کمپنی ویمپل نے تیار کیا ہے اور یہ مختلف جنگی طیاروں جیسے MiG-31، Su-30SM، Su-35S Flanker اور Su-57 Felon کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی خصوصیت صرف رفتار نہیں بلکہ اس کی 400 کلومیٹر کی رینج بھی ہے۔
یہ میزائل انٹرشل نیویگیشن کے ذریعے ہدف کو نشانہ بناتا ہے اور دوران پرواز اپ ڈیٹس بھی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بنیادی طور پر دشمن کے ٹینکرز، فائٹرز اور جیمنگ سسٹمز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا تھا، مگر اب یہ زیادہ حساس اہداف جیسے ڈرونز کے جتھوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ پہلے اس میں 60 کلوگرام کا دھماکہ خیز مواد ہوتا تھا، لیکن اب اسے ایک ایٹمی وار ہیڈ سے لیس کیا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی ایک اہم عملی اقدام ہے۔ سرد جنگ کے دوران ایئر-ٹو-ایئر نیوکلیئر میزائلز کا استعمال ہوتا تھا تاکہ بمباروں کی فارمیشنز کو روکا جا سکے، لیکن یہ خطرناک صورتحال پیدا کرتے تھے جس کے باعث ان کا استعمال ترک کر دیا گیا تھا۔ اب روس نے ایک بار پھر ان میزائلز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ قدم روس کے ایٹمی ہتھیاروں کی استعداد میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ اس سے عالمی سطح پر فوجی توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس نئی پیش رفت سے بین الاقوامی برادری کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح ان نئی چیلنجز کا سامنا کریں جو روس کی جانب سے پیش کیے جا رہے ہیں۔
