پیرس: فرانس کے سابق صدر نکولاس سرکوزی کو کرپشن کے الزام میں سزا کے بعد لیجن آف آنر سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سرکوزی کی سزا کو عدالت عظمیٰ نے برقرار رکھا۔ اس طرح وہ پیٹن کے بعد دوسرے فرانسیسی صدر ہیں جنہیں اس اعزاز سے محروم کیا گیا ہے۔
اتوار کو شائع ہونے والے سرکاری اعلامیہ کے مطابق، نکولاس سرکوزی کو نہ صرف لیجن آف آنر بلکہ نیشنل آرڈر آف میرٹ سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل نے کہا ہے کہ سرکوزی اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں اپیل زیر غور ہے۔
نکولاس سرکوزی کو الزام تھا کہ انہوں نے 2014 میں ایک جج کو رشوت دینے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ عدالتی معلومات حاصل کر سکیں۔ ان کے ساتھ وکیل تھیری ہرزوگ اور جج گلبرٹ ایزبرٹ کو بھی سزا سنائی گئی تھی۔ تمام ملزمان کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں ایک سال کی قید لازمی تھی۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کی آخری اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ فرانس میں ایسے معاملات میں لیجن آف آنر سے بے دخلی کا عمل خودکار ہوتا ہے۔ اس پر عمل درآمد کے لیے گرینڈ چانسلری نے قانونی ماہرین کی رائے بھی لی تھی۔
صدر ایمانوئل میکرون نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدور کا احترام کیا جانا چاہیے اور بطور گرینڈ ماسٹر وہ اس عمل میں مداخلت نہیں کریں گے۔
نکولاس سرکوزی کے علاوہ ان کے ساتھیوں گلبرٹ ایزبرٹ اور تھیری ہرزوگ کو بھی لیجن آف آنر سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سرکوزی پر دیگر عدالتوں میں بھی الزامات کا سامنا ہے، جن میں 2007 کی انتخابی مہم میں لیبیا سے مالی معاونت کا الزام شامل ہے۔ اس کیس کا فیصلہ ستمبر کے آخر میں متوقع ہے۔
