ریاض: سعودی عرب نے منگل کو اپنے مفتی اعظم، کبار علماء کونسل کے سربراہ اور عالمی رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے صدر شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ کے انتقال کا اعلان کر دیا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شاہی دیوان نے یہ خبر جاری کی۔
شاہی دیوان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ جنرل پریذیڈنسی آف سکالرلی ریسرچ اینڈ افتاء کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی نماز جنازہ آج ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام، مدینہ منورہ میں مسجد نبوی اور مملکت بھر کی تمام مساجد میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی جائے۔ سعودی گزٹ کے مطابق شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کی عمر 82 برس تھی۔
شاہی دیوان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کے انتقال سے مملکت اور عالم اسلام ایک ایسے ممتاز عالم سے محروم ہو گئے ہیں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مفتی اعظم کے اہل خانہ، سعودی قوم اور عالم اسلام سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
ادھر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے مفتی اعظم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کی دینی خدمات اور علمی رہنمائی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کو ایک عظیم عالم دین قرار دیا جنہوں نے اپنی تمام زندگی دینی سرگرمیوں اور فروغ اسلام کے لیے صرف کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے ان کی کوششیں اور علمی بصیرت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت برادر ملک سعودی عرب اور اس کی قیادت کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مفتی اعظم کی خدمات “دینی اور علمی روایت کا ایک روشن باب” ہیں، اور آنے والی نسلیں ان کے علمی ورثے سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی سعودی قیادت اور عوام سے مفتی اعظم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تاحیات خدمات اور گرانقدر شراکت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عبدالعزیز کا علمی، فقہی اور دینی ورثہ عالم اسلام کے لیے “مشعل راہ” رہے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کو کسی بھی دوسرے عالم کے مقابلے میں سب سے زیادہ مرتبہ خطبہ حج دینے کا منفرد اعزاز حاصل تھا، جو اسلامی دنیا میں ان کے گہرے اثر و رسوخ اور بلند مقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
