سابق انگریز کرکٹر اور مبصر مائیکل ایتھرٹن نے پاکستانی تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی کو ہر ٹیم کے لیے ایک بہت خطرناک مخالف قرار دیا ہے۔
شکست کے باوجود تعریف
کانڈی میں ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے میں انگلینڈ کی جانب سے پاکستان کو شکست دینے کے باوجود، ایتھرٹن نے شاہین کی فارم واپسی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی وکٹیں حاصل کرنا ہی ان کی پہچان ہے۔
ایتھرٹن نے کہا، “ابتدائی وکٹیں حاصل کرنا ہی ان کا اصل ہنر ہے۔ ان کی معقول رفتار اور اگر وہ گیند کو سوئنگ کرا سکیں، تو وہ اب بھی ایک بہت خطرناک مخالف ہیں۔”
مقابلے کا احاطہ
انگلینڈ نے پاکستان کے بنائے 165 رنز کے ہدف کو پانچ گیندیں باقی رہتے ہوئے حاصل کر لیا۔ انگلش کپتان ہیری بروک نے اپنی پہلی ٹی20 بین الاقوامی سنچری بنائی اور ٹیم کو ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔
ایتھرٹن نے کہا کہ شاہین، جنہوں نے میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں، کا ایک مشکل وقت گزرا ہے۔ “اور آپ جانتے ہیں، وہ پاکستان کرکٹ کی ایک علامتی شخصیت ہیں۔ اس لیے انہیں واپس آکر ابتدائی وکٹیں لیتے دیکھنا اچھا لگا۔ انہوں نے پاکستان کو دوبارہ میچ میں واپس لایا۔”
بروک کی سنچری اور شاہین کا اعتراف
شاہین نے ہیری بروک کی سنچری کو “ورلڈ کلاس اننگز” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، “بروک نے صحیح کرکٹنگ شاٹس کھیلے، اور وہ تعریف کے مستحق تھے، اس لیے میں ان کے پاس گیا اور ان کے ہاتھ ملا کر ان کی تعریف کی۔”
بروک کی سنچری ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین سنچری تھی اور کسی ٹیم کپتان کی جانب سے بنائی گئی پہلی سنچری بھی۔
