میٹا پلیٹ فارمز اور رے-بین کی شراکت سے تیار کردہ اسمارٹ عینکیں اب صرف ایک فیشن ایکسسری نہیں رہیں۔ یہ عینکیں، جو بالکل عام نظر آتی ہیں، درحقیقت ان میں چھپی ہوئی کیمرے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے آپ کی ویڈیوز بنا سکتی ہیں۔ یہ نئی ٹیکنالوجی رازداری کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
خفیہ کیمرے اور آپ کی حفاظت
ان عینکوں کے فریم میں دونوں اطراف پر انتہائی باریک دو کیمرے نصب ہیں۔ اگرچہ عام طور پر ریکارڈنگ کے دوران ایک ایل ای ڈی روشن ہوتی ہے، لیکن کچھ صارفین اسے بند کرنے کا طریقہ بھی جان چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ آپ کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔
اگر آپ کو بغیر اجازت فلمایا جائے تو کیا کریں؟
ماہر قانونی مشیر ماسٹر بلونڈیو کے مطابق، اگر آپ کو شک ہو کہ آپ کو اسمارٹ عینک سے فلمایا جا رہا ہے، تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:
- فلمانے والے شخص سے براہ راست بات کریں۔
- اسے یاد دلائیں کہ آپ کی تصویر یا ویڈیو آپ کی رضامندی کے بغیر شائع کرنا غیر قانونی ہے۔
- پوچھیں کہ وہ آپ کی تصویر یا ویڈیو کس مقصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قانون آپ کے ساتھ ہے
فرانس میں، کسی کی تصویر یا ویڈیو اس کی رضامندی کے بغیر شائع کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس کی سزا 45,000 یورو تک جرمانہ اور ایک سال قید ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ہی ان نئی ٹیکنالوجیز سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔
مستقبل کا اور بڑا خطرہ
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، میٹا اپنی اسمارٹ عینکوں میں چہرہ پہچاننے کی صلاحیت شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے عینک پہننے والا شخص سڑک پر ملنے والے کسی بھی فرد کی شناخت کر سکے گا۔ تاہم، یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے تحت عوامی مقامات پر چہرہ شناسی کی ٹیکنالوجی پر سخت پابندی عائد ہے۔
اسمارٹ عینکوں کا یہ نیا دور جہاں سہولتیں لا رہا ہے، وہیں یہ ہماری رازداری کے لیے ایک نئے قسم کے خطرے کا بھی اشارہ ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ عوامی مقامات پر ہوشیار رہیں اور اپنے قانونی حقوق سے آگاہی حاصل کریں۔
