موغادیشو: صومالیہ پاکستان سے 24 جے ایف-17 تھنڈر بلاک III جنگی طیارے خریدنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ 1991 کے بعد ملک کی فضائیہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی سب سے بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
سرد جنگ کے بعد سب سے بڑا دفاعی معاہدہ
ذرائع کے مطابق، یہ 90 کروڑ ڈالر کا ممکنہ معاہدہ سرد جنگ کے بعد صومالیہ کا سب سے بڑا دفاعی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہوگا۔ صومالی فضائیہ کے کمانڈر محمود شیخ علی کے فروری 2026 میں اسلام آباد کے دورے کے بعد مذاکرات میں تیزی آئی ہے۔
فضائی خودمختاری کا اعلان
صومالی دفاعی وزارت کے ایک عہدیدار نے کہا، “ہمارے فضائی حدود کی حفاظت صومالی ہاتھوں سے ہونی چاہیے۔” یہ بیان اس حصول کو محض ہتھیاروں کی خریداری نہیں بلکہ سیاسی خودمختاری اور اداروں کے احیاء کا اعلان قرار دے رہا ہے۔
ہارن آف افریقہ کی سلامتی کی نئی شکل
یہ معاہدہ صرف فوجی جدید کاری تک محدود نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ہارن آف افریقہ کی سلامتی کے نقشے کو بدل سکتا ہے، جس سے صومالیہ کی امریکہ اور ترکی جیسے ممالک پر انحصار کم ہوگا۔
جے ایف-17 کی مالیاتی اور عملی افادیت
پاکستان کے وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ مغربی طیاروں کے مقابلے میں جے ایف-17 تین گنا سستا ہے، جو کہ 30 سے 40 ملین ڈالر فی طیارہ کے درمیان ہے۔ اسلام آباد کے ایک تجزیہ کار نے اسے “مکمل آپریشنل پیکیج” قرار دیا، جس میں تربیت، اسپیئر پارٹس اور کم سیاسی پابندیاں شامل ہیں۔
پاک فضائیہ کی کامیابیوں کا اثر
سابق ایئر کموڈور عدیل سلطان نے کہا کہ پاک فضائیہ نے جے ایف-17 کے ذریعے مہنگے مغربی اور روسی نظاموں کے خلاف اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جو اسے دیگر ممالک کے لیے پرکشش بناتا ہے۔
خطے پر اثرات
طیاروں کی فراہمی سے صومالیہ کو اپنے وسیع ساحلی علاقوں اور سمندر پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملے گی، خاص طور پر صومالی لینڈ کے خود مختار علاقے پر، جسے حال ہی میں اسرائیل نے تسلیم کیا ہے۔
