geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 23, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

ریاست مدینہ ۔۔۔ کہاں ہے

February 21, 2019 0 1 min read
Imran Khan
Share this:

Imran Khan

تحریر : نسیم الحق زاہدی

وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی وی میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی فلاحی مملکت بنایا جائے گا جہاں پر غریبوں کو انصاف ملے گا۔ بے روزگاروں کو روزگار ملے گا۔ بے گھرافراد کو آسان قسطوں پر سائبان مہیا کیا جائے گا۔ جہاں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور ماضی کے حکمرانوں کی غلطیاں نہیں دہرائیں جائیں گے مگر آج تحریک انصاف کے حکمرانی کے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھے اتنا ہی عرصہ گزر گیا ہے لیکن کیا ہوا ؟ ریاست مدینہ کی دعویدار سرکار اپنا ایک وعدہ بھی وفا نہ کر سکی۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے جس نے اپنے پہلے چھ ماہ کی مدت میں ہی تین بجٹ پیش کر ڈالے۔ ڈالر نے ایسی اڑان بھری کہ ابھی تک نیچے نہیں آ سکا۔ افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافہ’ پٹرول کی قمت میں اتار چڑھائو جاری ہے حتی کہ اس کی قیمت بھی مستحکم نہ ہو سکی۔ وزیر خزانہ اسد عمر جن کا شمار ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت کے انقلابی وزیروں اور نئے پاکستان کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے سب دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

الیکشن سے قبل وزیر موصوف یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ہم آئیں تو پٹرول سستا کر دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جان بوجھ کر قیمتیں بڑھا رکھی ہیں کیونکہ نصف سے زائد منافع ان کی جیبوں میں جا رہا ہے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ تیل مہنگا’ سوئی گیس مہنگی بلکہ ندارد’ بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ’ حج کے مجموعی اخراجات سے سبسڈی کا خاتمہ’ ٹرانسپورٹ میں سے بھی رعایت اٹھا لی گئی۔ حکومت وقت سے سوال ہے کیا یہ ہے کہ فلاحی ریاست کا تصور؟ ۔جہاں غریب خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا۔ پچاس لاکھ گھروں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جب وہ تعمیر ہو جائیں گے تو اس میں کم آمدنی والے کا کتنا حصہ ہوگا؟ اور اگر نچلے طبقے کو گھر ملا بھی تو اسے کس پل صراط سے گزرنا ہوگا؟ بازاروں میں چلے جائیںہر طرف مندی کا رجحان ہے۔ گوشت کا کیا کہیے اس مہنگائی کے پرآشوب دور میں دال پکانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ دال غریب کی ساتھی ہے لیکن موجودہ حالات میں لگتا ہے کہ دال بھی غریبوں کی دسترس سے دور ہو چکی ہے۔ اشیائے خورد و نوش کے ریٹ اس قدر بڑھا دئیے گئے ہیں کہ اس وقت سے ڈر لگتا ہے جب خلق خدا روٹی کے لئے ترسے گی!… حالیہ اعداد و شمار کے مطابق وطن عزیز میں مہنگائی کی شرح میں اضافے قوت خرید کم ہو رہی ہے۔ کاروبار خسارے پر چل رہے ہیں۔

حکومتی معاشی پالیسیوں نے کاروباری طبقے کو بھی مشکلات میں ڈال دیا ہے ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ آپا دھاپی چھائی ہوئی ہے۔ صاف ظاہر ہے جب ٹیکسوں کی شرح بڑھ گئی تو بزنس مین اس اضافے کو عوام کی جیبیں صاف کر کے پورا ہوگا تو فرق تو پڑے گا ایک عام آدمی کو جو مہنگائی کی اس چکی میں مزید پسے گا۔ صحت عامہ کی سہولیات جن کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ ہیلتھ کارڈ تو بنا لئے گئے کیا حکومت بتائے گی کہ ان صحت کارڈوں کا فائدہ کون سا طبقہ اٹھائے گا کیا پاکستان کا وہ طبقہ جس کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس تک یہ کارڈ کی سہولیات پہنچ پائے گی یا پھر صحت کارڈ کے اجراء کا اعلان بھی محض حکومتی دکھاوا ہے۔

یہاں تو یہ حال ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو بھی شکوہ ہے کہ انہیں ہسپتال میں سہولیات فراہم نہیں کی گئی۔ سوال تو یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں زندگی کی تمام تر آسانیاں و سہولیات صرف اشرافیہ کے لئے ہیں۔ یہاں غریب صرف سسک کر مرنے کے لئے رہ گئے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں نہ دوائیں مل رہی ہیں نہ مریضوں کے لیٹنے کے لئے بیڈز ہیں اور نہ ہی ان کا علاج و معالجہ کرنے کے لئے ڈاکٹرز دستیاب ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے عملے کا یہ کہنا ہے کہ دوائیاں خریدنے کے لئے بجٹ ہی نہیں۔ کیونکہ حکومت وقت نے صحت کے شعبے میں سہولیات بہم پہنچانے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

زندگی بچانے والی مشینیں خراب پڑی ہیں۔ وینٹی لیٹر تک کی عدم دستیابی نے مفلس و بدحال لوگوں کی سانسیں بھی چھیننا شروع کر دی ہیں۔ کیا یہ ہے نیا پاکستان سعودی عرب کے ولی عہد کے پروٹوکول کے لئے کروڑوں روپے رینٹ پر لگژری گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے میں تاخیر ہوگی وگرنہ معزز مہمانوں اور ان کے عملے کے قیام و طعام کے لئے کوئی فائیو سٹار ہوٹل بھی کروڑوں روپے پر کرایے پر لینا پڑ جاتا۔ یہ حکومت ریاست مدینہ کی دعویدار جس کو اپنی سمت ہی نہیں معلوم کہ وہ کرنا کیا چاہ رہی ہے اور مستقبل میں عوام کے لئے کیا منصوبے پیش نظر ہیں۔ ہر روز کابینہ کے اجلاس کی طلبی کی بجائے ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان صاحب عوامی مسائل پر توجہ دے اور ان کے جلد از جلد حل کیلئے ممکنہ اقدامات اٹھائے۔

سبسڈی ودیگر مراعات کاخاتمہ نہ کریں بلکہ بطور اسلامی مملکت کے سربراہ اپنے شہریوں کی مراعات و سہولیات میں اضافہ کرتے تاکہ حقیقتاً ریاست مدینہ کا تصور ابھرتا۔ مگر یہاں تو ریاست مدینہ کی آڑ میں عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ پچھلی حکومتوں کے معاشی خسارے اسی مفلس و غربت کے مارے لوگوں سے پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب غریب کہاں جائیں کس سے داد رسی چاہیں۔ ریاست مدینہ ہوتی تو حاکم وقت سے سوال کرنے کی انہیں اجازت ہوتی کہ ہمارا کیا قصور ہے؟ گزشتہ حکمرانوں سے مخاصمت کا ملبہ ہم پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ اسلامی ریاست تو وہ ہے جہاں خلیفہ دوم حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ دریائے دجلہ کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو قیامت کے دن مجھے اس کا جواب دینا ہوگا اور یہاں تو روزانہ افراد روٹی کے ایک لقمے کے لئے ترس رہے ہیں۔

سڑکوں پر چلے جائیں گداگروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے سکول جانے کے بجائے شاہرائوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ بے سہارا و غریب خواتین اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کے لئے اپنی عزت تک کا سودا کرنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ فلاحی ریاست کے سربراہ نے ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائی تھی تو وہ تو نئے پاکستان کی تعمیر میں مصروف ہے۔ انہیں تو یہاں ریاست مدینہ قائم کرنی ہے ۔خواہ اس کی بنیاد غریبوں کی سسکیوں’ آہوں اور انہیں بھوک و افلاس سے مار کر ہی کیوں نہ رکھنی پڑے؟
Naseem Ul Haq Zahidi

تحریر : نسیم الحق زاہدی

Share this:
Agha Siraj Durrani
Previous Post اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
Next Post وسائل کی فراوانی، پھر بھی پاکستان کمزور کیوں
Pakistan Economy

Related Posts

US-Israel Attack Iran; Tehran Vows Regional Infrastructure Destruction

امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے علاقائی تباہی کی دھمکی دے دی

March 22, 2026
Zardari Urges India to Restore Indus Water Treaty on World Water Day

صدر زرداری کا عالمی یوم آب پر بھارت سے مطالبہ: سندھ طاس معاہدہ بحال کیا جائے

March 22, 2026
Trump Threatens to Deploy ICE Agents to Airports Amid Shutdown

ٹرمپ کا بجٹ تعطل کے دوران ہوائی اڈوں پر آئی سی ای ایجنٹس تعینات کرنے کا اشارہ

March 22, 2026
Pakistani Celebrities Share Heartwarming Eid Celebrations

نئی شادی شدہ جوڑوں سمیت پاکستانی سٹارز نے عیدالفطر پر پیار بھرے لمحات شیئر کرکے ‘کپل گولز’ دیے

March 22, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.