سی پان پر مبہم کال نے شائقین کو حیران کر دیا
واشنگٹن — امریکی پارلیمانی چینل سی پان پر جمعہ کے روز ایک غیر معمولی کال نے ناظرین اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ ایک کالر، جس نے خود کو “جان بیرن” کے طور پر متعارف کرایا، نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر سخت تنقید کی جس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
کالر کی آواز اور انداز نے ٹرمپ کی یاد تازہ کر دی
کالر کا نیویارک لہجہ، بولنے کا انداز اور جارحانہ تنقید فوری طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی یاد دلاتی تھی۔ مزید برآں، “جان بیرن” وہی فرضی نام ہے جسے ٹرمپ ماضی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے بارے میں تیسرے شخص کے طور پر بات کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
سی پان نے صورتحال کی وضاحت کی
کال کے دوران ہی پروگرام کی میزبان نے فون کاٹ دیا اور اگلے کالر کی طرف چلی گئیں۔ واقعے کے بعد سی پان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کال ڈونلڈ ٹرمپ کی نہیں تھی۔ چینل کے مطابق، کال ورجینیا کے ایک نمبر سے آئی تھی اور اسی وقت کی گئی تھی جب صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ ایک میٹنگ میں مصروف تھے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ نے 6-3 کے فیصلے میں ٹرمپ کو یہ اختیار دینے سے انکار کر دیا کہ وہ اقتصادی ہنگامی حالت کے ایک قانون کے تحت درآمدی محصولات عائد کر سکیں۔ اس فیصلے کو ٹرمپ کی عدالتی شکستوں میں سے ایک اہم ترین قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے فیصلے کو “انتہائی ناانصافی” قرار دیا
وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران، سابق صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور اسے “انتہائی ناانصافی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔
پراسرار کال نے پرانے میڈیا ڈرامے کو دوبارہ زندہ کر دیا
اگرچہ اس کال کی تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن یہ مختصر واقعہ ایک بار پھر ان پراسرار فرضی ناموں کی طرف توجہ مبذول کرا گیا جو امریکی سیاست کا حصہ رہے ہیں۔ “جان بیرن” کا نام استعمال کرتے ہوئے ٹی وی پر یہ مبہم کال میڈیا کی دنیا میں ایک دلچسپ اور پراسرار واقعہ کے طور پر ریکارڈ کیا جائے گا۔
