ایران: امریکی صدر ٹرمپ کا احتجاج پر تبصرہ اور سفارتی توجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری عوامی احتجاج پر اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ایران ہماری ترجیح ہے۔” انہوں نے موجودہ صورت حال پر گہری نظر رکھنے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے مطابق ایران میں “سنگین غلطیاں” ہو رہی ہیں، جس پر وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس بھی طے پا چکا ہے۔
اس تناظر میں ایران کی وارث شاہ رضا پہلوی سے امریکی صدر کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایرانی مصنفہ فریبا ہشترودی کے مطابق ملک کے کئی خاندان جو پہلے ہی غربت کا شکار تھے، موجودہ حالات میں مکمل تباہی کے دہانے پر ہیں۔
گرین لینڈ: امریکہ اور یورپ کے درمیان سفارتی کشمکش
ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ کے حوالے سے امریکہ کی ممکنہ مداخلت نے بین الاقوامی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ کی خودمختاری کی خلاف ورزی “انوکھے نتائج” کا سبب بن سکتی ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے گرین لینڈ کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ “وہ ہم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔” گرین لینڈ کی وزیر توانائی نے واضح کیا ہے کہ “ہماری امریکہ کا حصہ بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے،” جبکہ ٹرمپ نے ڈنمارک کے ساتھ گرین لینڈ کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے “بڑا مسئلہ” ہوگا۔
فرانس: میرین لی پین کے مقدمے میں امریکی مداخلت کے خدشات
پیرس بار ایسوسی ایشن کے صدر لوئس ڈیگوس نے خبردار کیا ہے کہ فرانس میں میرین لی پین کے مقدمے میں ممکنہ امریکی مداخلت “پریشان کن” ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی وزیر سیباسٹین لیکورنو نے قومی اسمبلی میں اعلان کیا کہ “ٹرمپ انتظامیہ کے ارادوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔”
دیگر اہم واقعات
- اسپین کے ایک گاؤں میں لاٹری جیتنے والے 50 افراد انتظامی غلطی کی وجہ سے اپنی جیت سے محروم ہو گئے۔
- امریکی صدر ٹرمپ نے وینیزویلا میں امریکی کارروائی پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے اسے “ناقابل یقین” قرار دیا۔
- افریقی نژاد امریکی شہری حقوق کی علمبردار کلائیڈٹ کالون 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
- چین نے تجارتی جنگ کے باوجود اپنی عالمی قیادت کو مضبوط کیا ہے۔
- فرانس میں کسانوں کے احتجاج کے دوران زرعی کارکنوں نے قومی اسمبلی کے سامنے رات گزاری۔
یہ واقعات عالمی سفارت کاری، خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے دور کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں طاقت کے مراکز میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
