امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز پر دنیا میں امریکہ کے کردار اور صدارت کی روایات کو چیلنج کر دیا ہے۔ ان کی تیز رفتار حکومتی فیصلے اور طاقت کے بے پناہ استعمال سے قانون کی حکمرانی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور عالمی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کو یہ بات سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایک صدر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کانگریس کی جانب سے پہلے ہی منظور شدہ اربوں ڈالرز کی رقم خرچ کرنے سے انکار کر دے اور ایک نجی شہری، جیسا کہ ایلون مسک، کو سرکاری اداروں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرے۔ یہ تصور کہ وائٹ ہاؤس کسی عدالتی فیصلے کو نظر انداز کر دے، ایک نظریاتی سوال تھا جو کبھی بھی ممکنہ حقیقت نہیں سمجھا گیا تھا۔
حکومت کے امدادی کارکنوں کو برطرف کرنا، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں انسانی بحران ہو، ناقابل تصور تھا۔ اسی طرح، ایک ایسا پروگرام جو لاکھوں ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی جان بچاتا ہے، کو متاثر کرنا بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
ٹرمپ نے فلسطینیوں کو غزہ سے مصر اور اردن کی طرف منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں نسلی صفائی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی روایتی صدر، یوکرین جیسے جمہوری ملک کے لیے امداد کو مشروط کرنے کی تجویز پیش نہیں کرے گا، جو کہ روس کی جارحیت کا شکار ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے وعدوں کی تکمیل کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں مغربی نصف کرہ کے ممالک کو غیر قانونی مہاجرین کو واپس لینے پر مجبور کرنا اور پیانا ماکانال میں امریکی جہازوں کے لیے بہتر معاہدہ حاصل کرنا شامل ہیں۔ کچھ کامیابیاں حقیقی ہیں، جبکہ دیگر مبالغہ آرائی یا خیالی ہیں۔ تاہم، ٹرمپ انہیں اپنے نئے “سنہری دور” کی شروعات قرار دیتے ہیں۔
ٹرمپ کے تیز رفتار اقدامات، جو کہ طاقت کی نمائش کے لیے ہیں، امریکی سیاسی نظام کے لیے بڑے خطرات لے کر آرہے ہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کو مختلف محاذوں پر چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بہت سے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک ایک بے مثال آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ خطرات اس وقت بڑھ گئے جب نائب صدر جی ڈی وینس نے ایک پوسٹ میں یہ اشارہ دیا کہ وائٹ ہاؤس اپنے متنازعہ پروگراموں پر عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے اس نئی انتظامیہ کی یہ رجحان ظاہر کی کہ وہ صدر کے اقدامات کی قانونی حیثیت کو خود ہی طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹرمپ کے اقدامات، جیسے کہ ترقیاتی ایجنسیوں کو بند کرنے کی کوشش، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کانگریس کی مرضی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ آئین کی رو سے، صدر کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ قانون سازوں کی جانب سے مختص کردہ فنڈز کو استعمال کرنے سے انکار کرے۔
ٹرمپ کی حالیہ کارروائیاں، جیسے کہ لیبر کے حقوق کے تحفظ کے لیے اداروں کو بند کرنے کی کوششیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ قانون کی حکمرانی کو ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
آئینی بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے، حالانکہ انتظامیہ نے ابھی تک مکمل طور پر عدالتوں کے فیصلوں کی نافرمانی نہیں کی۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ ٹرمپ کی حکومت قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو چیلنج کر رہی ہے، جو ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
