واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ حکم نامے نے زرعی پالیسی اور قومی دفاع کے درمیان ایک غیر متوقع تعلق کو اجاگر کیا ہے۔ بظاہر یہ حکم نامہ امریکی کسانوں کے لیے راؤنڈ اپ نامی جڑی بوٹی مار دوا کی پیداوار کو تحفظ دینے کے لیے ہے، لیکن اس کی جڑیں درحقیقت فوجی ضروریات تک پہنچتی ہیں۔
ایک ہی صنعتی زنجیر، دو مختلف مقاصد
حکم نامے کے متن میں “بنیادی فاسفورس” کی پیداوار کو امریکہ کی “فوجی تیاری اور قومی دفاع” کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ یہ کیمیائی مادہ فوجی گولہ بارود بنانے میں استعمال ہوتا ہے، جو دھواں چھانے، ہدف نشان زد کرنے یا آگ بھڑکانے کے کام آتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہی سفید فاسفورس راؤنڈ اپ ہربیسائیڈ کی تیاری کا بھی ایک اہم جزو ہے۔
امریکہ میں اس مادے کی واحد پیداواری سہولت آئیڈاہو ریاست میں واقع ہے، جسے جرمن کمپنی بائر چلا رہی ہے۔ بائر نے 2018 میں مونسانٹو کے حصول کے بعد نہ صرف گلائفوسیٹ (راؤنڈ اپ کا فعال جزو) کی پیداوار سنبھالی بلکہ اس واحد امریکی پلانٹ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا جو سفید فاسفورس پیدا کر سکتا ہے۔
قانونی دباؤ اور قومی سلامتی کا خدشہ
راؤنڈ اپ کی پیداوار فی الحالقانونی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے تحت کام کرنے والے ادارے نے گلائفوسیٹ کو “انسانیوں کے لیے ممکنہ طور پر سرطان زا” قرار دیا ہے، جس کے بعد بائر کو ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے اور وہ اربوں ڈالر کی تلافی ادا کر چکا ہے۔
امریکی حکومت کا خدشہ ہے کہ اگر قانونی دباؤ بڑھا تو بائر ملک میں راؤنڈ اپ کی پیداوار کم یا بند کر سکتا ہے۔ چونکہ یہی صنعتی عمل سفید فاسفورس بھی پیدا کرتا ہے، اس لیے اس کے بند ہونے سے فوج کو اس اہم فوجی مادے کی مقامی فراہمی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
متنازعہ مادہ، بین الاقوامی قوانین
سفید فاسفورس خود بھی ایک متنازعہ مادہ ہے جو ہوا کے ساتھ رابطے میں فوری طور پر آگ پکڑ لیتا ہے اور شدید جلنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اس کے استعمال پر واضح پابندیاں عائد کرتے ہیں:
- سفید فاسفورس کا استعمال براہ راست شہریوں کے خلاف ناجائز ہے
- آباد علاقوں میں اس کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے
یہ حکم نامہ درحقیقت ایک پیچیدہ صنعتی انٹرسیکشن کو ظاہر کرتا ہے جہاں ایک زرعی کیمیائی مادہ قومی دفاعی ضروریات سے جڑ جاتا ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے صدارتی اختیارات استعمال ہو رہے ہیں۔
