امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے یوکرین میں جاری تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے اور امن معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایک مجوزہ امن منصوبہ موجود ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ روس اس پر عمل کرے۔
یہ بیان صدر ٹرمپ نے روم میں پوپ فرانسس کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد مورس ٹاؤن ہوائی اڈے پر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پیوٹن جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں سنجیدگی دکھائیں، خاص طور پر جب مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی نے علاقے کو تباہ کیا ہے اور ہزاروں افراد کی جانیں لی ہیں۔
ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ان کی حالیہ ملاقات میں امن معاہدے کے لیے بات چیت ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی ممکنہ طور پر 2014 میں روس کے زیر قبضہ جزیرہ نما کرائمیا کو چھوڑنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، جو کہ امن معاہدے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں اس بات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ آیا پیوٹن واقعی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹن کو چاہیے کہ وہ ایک معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین میں جنگ کی شدت بدستور بڑھ رہی ہے اور عالمی برادری اس تنازعے کے پرامن حل کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے اور امن کی کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
