ترکیہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں بھارتی جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے 6 مئی کو پاکستان میں شہری علاقوں اور بنیادی سویلین ڈھانچے پر حملہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ انقرہ نے اس کشیدگی کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مشترکہ فہم و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔
ترکیہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہم اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات اور شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ترکیہ نے تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور مزید تنازعات سے بچا جا سکے۔ وزارت نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں ضروری میکانزم کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انقرہ نے پاکستان کی جانب سے 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے شفافیت اور علاقائی تعاون پر اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ ترکیہ نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے اور ترکیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چھ مقامات پر حملے کیے جن سے کئی شہری، بشمول بچے، ہلاک ہوئے اور مساجد کو نقصان پہنچا۔ پاکستانی فوج کے مطابق جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں بہاولپور، مریدکے، مظفر آباد، کوٹلی، باغ اور احمد پور شرقی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں ایک 3 سالہ لڑکی، ایک 16 سالہ لڑکی اور ایک 18 سالہ لڑکا شامل ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے اور دو افراد لاپتہ ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مختلف ہتھیاروں سے 24 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں گنجان آباد علاقوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھارتی جنگی طیارے اور ڈرون مار گرائے ہیں۔
ترکیہ کی جانب سے جاری بیان میں دونوں ممالک کو خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے بات چیت اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
