گرمی کی شدید لہروں کے دوران پورٹیبل منی فینز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ چھوٹے اور سستے فینز گرمی کو کم کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن گئے ہیں۔ انہیں لے جانا آسان ہوتا ہے اور یہ روایتی فینز کے مقابلے میں کم تھکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز اور مختلف اسٹورز میں یہ فینز مختلف ڈیزائن اور رنگوں میں دستیاب ہیں، اور بہت سے لوگ انہیں فیشن قرار دیتے ہیں۔
تاہم، ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، یہ ماحولیاتی نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔ اکثر چین میں بنائے جانے والے یہ فینز ایسے مواد سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں، جیسے کہ لیتھیئم اور ایلومینیم۔ یہ تیزی سے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کا حصہ ہیں جسے ‘فاسٹ ٹیک’ کہا جاتا ہے، جہاں مصنوعات کو ان کی زندگی کے اختتام سے پہلے ہی بدل دیا جاتا ہے۔
برطانیہ میں، ہر سال 1.14 ارب سے زائد الیکٹرانک آلات خریدے جاتے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ کو پھینک دیا جاتا ہے۔ 2024 میں برطانوی عوام نے 7.1 ملین فینز خریدے، جن میں سے 3.5 ملین کو پھینک دیا گیا یا بھلا دیا گیا۔ فرانس میں، کم لوگ اس نقصان سے آگاہ ہیں جو یہ مصنوعات ماحول پر ڈالتی ہیں۔
ان فینز کی مؤثریت بھی زیر سوال ہے۔ جاپان کے ڈاکٹر کونی ہسا میور نے خبردار کیا ہے کہ شدید دھوپ میں یہ فینز گرم ہوا کا جھونکا دیتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان فینز کی ضرورت ہو، تو بہتر کوالٹی کے فین خریدنے پر غور کیا جائے تاکہ وہ زیادہ عرصے تک کارآمد رہ سکیں۔
