رستم بازار میں دہشت گردانہ کارروائی، دور سے کنٹرول شدہ دھماکا
جنوبی وزیرستان کے زیریں ضلع کے مرکزی شہر وانا کے رستم بازار میں ایک پولیس گشت پر منگل کے روز آئی ای ڈی دھماکے میں دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکا دور سے کنٹرول یا ٹائمر کے ذریعے کیا گیا تھا۔
دھماکے کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، یہ دھماکا شام تقریباً 5 بجے اس وقت ہوا جب پولیس کی گاڑیوں پر مشتمل ایک گشت رستم بازار میں موجود تھی۔ دھماکا ایک سپر مارکیٹ کے مرکزی دروازے کے قریب نصب مواد سے ہوا جس کی زد میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ متعدد شہری بھی آئے۔ زخمیوں میں 5 پولیس اہلکار اور 26 شہری شامل ہیں۔
ہسپتال میں ہنگامی حالت
واقعے کے فوری بعد زخمیوں کو وانا کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جان محمد کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں اور 31 زخمی افراد ہسپتال لائے گئے۔ زخمیوں میں معمر افراد، بچے اور نوجوان شامل ہیں۔
سکیورٹی کی کارروائی اور تحقیقات
ڈی ایس پی وانا سرکل اصغر علی شاہ نے بتایا کہ دھماکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سنگین حالت میں زخم ہونے والے تین پولیس افسران ایس ایچ او وانا صفاء اللہ، ایس آئی محمد علی اور ایڈیشنل ایس ایچ او مومن کو ایئر ایمبولنس کے ذریعے پی ایس ایچ کے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔
شہیدوں کی نمازِ جنازہ
شہید ہونے والے پولیس کانسٹیبل مرزا عالم اور گل شاہ کی نمازِ جنازہ رات گئے وانا پولیس لائنز میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر زیریں جنوبی وزیرستان مسرت زمان، کمانڈنٹ ساؤتھ وزیرستان اسکاؤٹس محمد طاہر سمیت دیگر سینئر افسران نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
صوبائی حکومت کی کارروائی
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمد سہیل افریدی نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں عوام اور حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
عملیہ غضب للہق کے پس منظر میں واقعہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں افغان طالبان حکومت کی پشت پناہی سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف عملیہ غضب للہق شروع کیا ہوا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد سرحدی علاقوں میں سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔
