geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 21, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Long Covid's Psychological Theory Sparks Patient Outcryطویل کووڈ: علاج کی تلاش میں نفسیاتی نظریہ متنازعہ بن گیا
    • The '777 Rule' for Couples: Viral Trend or Relationship Savior?جوڑوں کے لیے ‘777 اصول’: کیا یہ محض ایک وائرل ٹرینڈ ہے یا مفصل مشورہ؟
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    دلچسپ اور عجیب
    • Russia's S-500 Prometheus: The Next-Gen Air Defense Systemروسیہ کا ایس-500 پرومیٹھیس: ہوا سے ہوا میں مار کرنے والا نیا جنگی نظام
    • The Night Belongs to Us: Women's Complex Relationship with Darknessرات اور عورت: آزادی کی خواہش اور خوف کے درمیان محصور وجود
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Pioneer Yann LeCun's Startup AMI Raises $1 Billionیان لی کن کی اے آئی اسٹارٹ اپ اے ایم آئی نے ‘ورلڈ ماڈلز’ کے لیے ایک ارب ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

صلہ رحمی میں نجات ہے

April 7, 2020 0 1 min read
Coronavirus
Share this:

Coronavirus

تحریر : محمد رضا ایڈدوکیٹ

دنیا بھر میں کووڈـ 19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کووڈـ19 کوعالمی وباء قرار دے کر ہیلتھ ایمرجنسی نافذکی جا چکی ہے ابھی تک چین میں اس کے نئے متاثرین کی تعداد کم ہونے کے بعد امریکہ اس کا نیا مرکز بن چکا ہے۔اب تک یہ مرض دنیا کے200 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اس وائرس سے متاثر کی تعداددس لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے جن میں سے 70 ہزار سے زیادہ جان کی بازی ہرگئے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2لاکھ70ہزارسے زیادہ ہے جسے حوصلہ افزاء کہاجاسکتاہے ۔کیااس حقیقت کاکوئی انکارکرسکتاہے کہ اس دنیامیں بھوک سے بڑی کوئی وباء نہیں؟ یہ سچ ہے کہ دنیامیں انسان کوبے شمارمسائل کاسامناہے پریہ بھی حقیقت ہے کہ ہرریاست ہرشہر اورہرگائوں کے مسائل الگ الگ ہیں اوروسائل بھی مختلف ہیں جبکہ بھوک ایسا مسئلہ جسے عالمی مسئلہ یاوباء تصورکیاجاناچاہیے دنیا کی بہت بڑی آبادی کو دووقت کی روٹی تو درکنار ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔

اس حوالے سے گلوبل ہنگری انڈیکس کی یہ رپورٹ دنیا بھر کے صاحبان اقتدارکے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جس کے مطابق دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ سے زیادہ انسان بھوک کا شکار ہیں۔انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے بھوک کے شکار 118 ممالک کی جو فہرست جاری کی جاچکی ہے، اس رپورٹ میں پاکستان 11 ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے 33.4 پوائنٹس تھے، رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستان میں کل آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور 8 اعشاریہ ایک فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔بھوک اور غربت کا عفریت ہمارے بچوں کو ان کے بچپن ہی سے گھن کی طرح چاٹنے لگتا ہے پاکستان میں غربت کے خاتمے کے نعروں کے ساتھ حکمران اقتدارکے سنگھاسن تک پہنچتے جاتے ہیں پر آج تک کسی حکمران نے غربت کے آسیب کاسامناکرنے کی جرات نہیں کی وعدوں اوردعوئوں کے درجنوں ادوارگزرگئے پر آج بھی غریبوں کا وہی حال ہے۔ سیاست دانوں کے دلفریب نعرے، وعدے اور دعوے بارجھوٹے ثابت ہوتے رہے ہیں۔دن بدن امیر، امیر تر،اورغریب،غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے حکمراں اب یہ نعرہ زیادہ شدت سے لگانے لگے ہیں کہ ملک سے غربت جلد ختم ہو جائے گی۔

ظاہر ہے کہ جب غریب ہی نہیں رہے گا تو غربت کیسے باقی رہے گی؟اس بات سے بھی انکارممکن نہیں کہ کائنات کی تلخ ترین اور سفاک ترین حقیقت بھوک ہیاورانسان کویہ یاد رہناچاہیے کہ بھوک کاکوئی مذہب،مسلک،رن ونسل یاقوم وقبیلہ نہیں ہوتا دنیابھرمیں کمزورطقبات بھوک پٹانے کے لیے رات دن مزدوری کرتے ہیں جبکہ آج کل دنیابھرکو کوروناوائرس کے پیش نظرلاک ڈائون کاسامناہے جس میں غریب جوپہلے ہی دووقت کی روٹی کیلئے پریشان تھے اوربھی زیادہ پستے جارہے ہیں پیٹ جب کھانے کومانگتاہے یعنی بھوک لگتی ہے توفقط کھانے کی ضرورت ہوتی مسلسل بھوک وافلاس انسان انسانی تقاضے بھلادیتی ہے اورانسان یہ سمجھنے سے قاصرہوجاتے ہیں کہ اچھاہے اورکیا برا کیاحلال ہے اورکیاحرام کوروناوائرس کے پیش نظر لگائے جانے والے لاک ڈائون سے متاثرہونے والے غریبوں کی کی امدادکرناہرصاحب حیثیت انسان کافرض ہے کوروناوائرس سے بچائوپھیلائو کی روک تھام کے لئے ماہرین اورحکومت کی ہدایات کافی ہیں انہیں پرعمل کریں جبکہ راقم آج صلہ رحمی اختیارکرنے کی اپیل کرناچاہتاہے صلہ رحمی سے کاملے کہ نہ صرف دنیابلکہ آخرت کے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں صلہ رحمی اللہ تعالیٰ اوراُس کے حبیب ۖ کی خوشنودی کاذریعہ ہے۔

رشتوں کا لحاظ رکھنا، رشتوں کو جوڑ کر رکھنا اور ان کا احترام کرنا دوسروں کی ضروریات خیال رکھنا،اللہ تعالیٰ کے عطاکردہ مال ودولت میں سے کمزوروں پرخرچ کرنے کا قرآن کریم نے حکم دیا ہے اور جرسول اللہ ۖ نے بھی اپنے قول و عمل سے اس کی تعلیم دی ہے۔ قرآن کریم نے اپنے رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کو صلہ رحمی سے تعبیر کیا ہے۔ گھر کی چار دیواری سے باہر کا دائرہ خاندان کا دائرہ ہوتا ہے جس میں باپ کی طرف کے رشتہ دار چچا، پھوپھیاں، چچا زاد، پھوپھی زاد ، اور اسی طرح ماں کی طرف کے رشتہ دار خالہ، ماموں، خالہ زاد اور ماموں زاد وغیرہ آتے ہیں۔اسلام نے زندگی کے بہت سے معاملات میں اس دائرے کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے، قرآن کریم میں ہے کہ” اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کو اللہ نے فرمایا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں(سور? الرعد ١٢)اسلام میں صلہ رحمی کو مستقل نیکی قرار دیا گیا ہے۔

رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات بحال رکھنے کے حوالے سے ان کے ساتھ امداد و تعاون کے حوالے سے آپس میں ایک دوسرے کی عزت و احترام کو ملحوظ رکھنے کے حوالے سے اور دیگر معاشرتی حوالوں سے رسول اللہۖ نے بہت سے ارشادات فرمائے ہیں۔ مثلاً رسول اللہۖ نے زکوٰة اور صدقہ و خیرات کے حوالے سے فرمایا کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے لوگوں پر خرچ کرتا ہے تو یہ اجر و ثواب کی بات ہے وہی خرچ اپنے رشتے داروں پر کرے گا تو دوہرے اجر کا مستحق ہوگا اسے صدقے کا اجر بھی ملے گا اور صلہ رحمی کا ثواب بھی حاصل ہوگا۔ جناب نبی کریم ۖنے صدقہ و خیرات میں رشتہ داروں اور قرابت داروں کو ترجیح دینے کاحکم دیا۔ محدثین فرماتے ہیں کہ رسول اللہۖ نے جو صدقہ و خیرات کے معاملے میں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے اس کی دو وجوہات ہیں۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ دو نیکیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں،ایک صدقہ و خیرات کی اور دوسری صلہ رحمی کی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ آدمی جب صدقہ و خیرات کرتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ مستحق کو ملے۔

جبکہ رشتہ داروں کے عمومی حالات کے متعلق ہر آدمی جانتا ہے کہ کون شخص یا خاندان امداد کا زیادہ مستحق ہے۔قریبی پڑوسیوں کی حالت کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے اور رشتہ داروں کے متعلق بھی، یا یوں کہہ لیں کہ ان کے حالات آدمی زیادہ آسانی سے معلوم کر سکتا ہے۔ رشتہ داروں کے علاوہ خرچ کرنے کا بھی ثواب ہے پروہاں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کہ امداد کسی مستحق کو ملی ہے یا غیر مستحق کو۔ اپنے رشتہ داروں میں آدمی کو اندازہ ہوتا ہے کہ کس کی معاشی حالت کیا ہے اس لیے خرچ کرتے وقت آدمی زیادہ اطمینان و اعتماد کے ساتھ خرچ کرتا ہے۔یہی معاملہ پڑوسیوں کے ساتھ بھی ہے۔ چنانچہ صلہ رحمی کا نہ صرف حکم دیا گیا ہے بلکہ اسے مسلمان معاشرے کے بنیادی تقاضوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں رشتے، برادری اور تعلقات کے وہ سلسلے ختم ہو کر رہ گئے ہیں جو اچھے زمانوں میں ہوا کرتے تھے۔ اسلام نے بطور خاص رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور میل جول رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جناب رسول اللہۖ نے ارشاد فرمایا کہ جس آدمی نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ میل جول حقارت کی وجہ سے ترک کیا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہے گا یعنی صلہ رحمی میں نجات ہے۔
Mohammad Raza Advocate

تحریر : محمد رضا ایڈدوکیٹ
ہائی کورٹ لاہور
0300 0320031

Share this:
Muscle Discomfort
Previous Post پٹھوں کی تکلیف کورونا کے تشویشناک مریضوں کی علامات ہیں: ماہرین
Next Post اسلام آباد میں پہلی ہلاکت، سب سے پہلے کورونا میں مبتلا ہونیوالی خاتون جاں بحق
Islamabad

Related Posts

US-Israel Strikes Escalate as Iran Retaliates, Oil Prices Fluctuate

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ چوتھے ہفتے میں داخل

March 20, 2026
Pakistan Accuses India of Water Weaponization at UN Forum

اقوام متحدہ میں پاکستان نے بے بنیاد دہشت گردی کے الزامات پر بھارت کی آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کی پالیسی کی سخت مذمت کی

March 20, 2026
Oil Prices Retreat as Hawkish Central Banks Rattle Markets

ایران جنگ کے تناؤ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں، بانڈ مارکیٹ میں ہلچل

March 20, 2026
Pakistan's Economy at High Risk from Hormuz Strait Disruption

ہرمز کے آبنائے میں خلل پاکستان کی معیشت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے، مطالعہ انتباہ

March 20, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.