پیرس: مصنوعی ذہانت کے معروف فرانسیسی محقق یان لی کن کی اسٹارٹ اپ کمپنی اے ایم آئی نے ایک ارب ڈالرز (89 کروڑ یورو) کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ اس فنڈنگ کا مقصد ایسے اے آئی ماڈلز تیار کرنا ہے جو مادی دنیا کی سمجھ رکھتے ہوں۔
بڑے سرمایہ کاروں کی دلچسپی
یہ فنڈنگ پانچ سرمایہ کاری فنڈز کی قیادت میں حاصل کی گئی ہے جس میں ٹویوٹا، اینویڈیا، سیمسنگ جیسے عالمی گروپس کے علاوہ سابق گوگل سی ای او ایرک شمٹ اور ایمیزون کے بانی جیف بیزوس جیسی ٹیک شخصیات بھی شامل ہیں۔ فنڈنگ سے پہلے کمپنی کی مالیت تین ارب یورو بتائی گئی تھی۔
‘ٹرائیسیراٹوپس’ کا طنزیہ لقب
یان لی کن نے فرانس انٹر ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا، “جب کوئی کمپنی ایک ارب کی مالیت سے تجاوز کرتی ہے تو اسے یونی کارن کہا جاتا ہے۔ ہم تین ارب سے تجاوز کر چکے ہیں، اس لیے ہم ٹرائیسیراٹوپس ہیں۔” لی کن کمپنی کے نان ایکزیگٹیو چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی سے مختلف سمت
یان لی کن کے مطابق یہ نئے ‘ورلڈ ماڈلز’ موجودہ لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم) سے یکسر مختلف ہوں گے۔ ان کا مقصد “جانوروں اور انسانوں کی طرح” جسمانی دنیا کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنا ہوگا۔ اس کے ابتدائی اطلاقات میں ہوائی جہاز کے انجن، پاور پلانٹس یا مریضوں کے اعضاء کے کام کرنے کے طریقوں کا تجزیہ اور پیشین گوئی شامل ہو سکتی ہے۔
مستقبل کے منصوبے اور اخلاقی پہلو
اے ایم آئی کا منصوبہ ہے کہ پہلے سال تحقیق و ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے، اس کے بعد صنعتی اطلاقات پر کام شروع کیا جائے۔ تین سے پانچ سال کے عرصے میں کمپنی کا ہدف “کسی بھی ایپلی کیشن کے لیے استعمال ہونے والے عالمگیر ذہین نظام” تیار کرنا ہے، خاص طور پر خودکار ڈرائیونگ اور روبوٹکس کے شعبوں میں۔
اخلاقی استعمال کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر یان لی کن کا کہنا تھا، “آخر میں، یہ فیصلہ کہ معاشرے کے لیے اے آئی کا بہترین استعمال کیا ہے، کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ معاشرے اور اس کی جمہوری اداروں کو طے کرنا چاہیے۔”
یاد رہے کہ یان لی کن نے گزشتہ نومبر میں میٹا چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جہاں انہوں نے 12 سال تک اے آئی ریسرچ کی قیادت کی تھی۔ ان کی اس نئی مہم میں میٹا کے سابق یورپ نائب صدر لارینٹ سولی بھی شامل ہو چکے ہیں۔
