ایپل کو اپنی ایپل واچ کے بینڈز میں زہریلے مادوں کی موجودگی کے باعث امریکہ میں مقدمے کا سامنا ہے۔ یہ مقدمہ کیلیفورنیا کے شمالی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں ایپل پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو ان بینڈز میں موجود خطرناک کیمیکلز کے بارے میں نہیں بتا رہی تھی۔
یہ مقدمہ ایپل واچ کے تین بینڈز، یعنی اسپورٹ بینڈ، اوشن بینڈ اور نائکی اسپورٹ بینڈ کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ یہ بینڈز فلوورو ایلاستومر نامی مصنوعی ربڑ سے بنائے جاتے ہیں، جو پسینے اور جسمانی تیل کے خلاف مزاحم ہوتا ہے۔ تاہم، تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ان بینڈز میں PFAS (پرفلوورو الکیل اور پولی فلورو الکیل مادے) نامی کیمیکلز شامل ہیں، جو انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں۔
PFAS کو “ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ یہ مادے جسم میں جمع ہو کر کینسر، مدافعتی نظام کی کمزوری اور حاملہ خواتین کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ نوٹری ڈیم یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ایپل واچ کے بینڈز میں یہ کیمیکلز موجود ہیں۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایپل نے صارفین کو ان خطرات کے بارے میں نہیں بتایا، جو کیلیفورنیا کی صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ، ایپل پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ صحت اور پائیداری کے اصولوں کو فروغ دیتے ہوئے ان بینڈز کی فروخت سے غیر منصفانہ فائدہ اٹھا رہی ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ یہ بینڈز، جو کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے بنائے گئے ہیں، پسینے کے دوران جلد کے ساتھ طویل وقت تک رابطے میں رہتے ہیں، جس سے PFAS کے جسم میں جذب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مقدمے میں ان بینڈز کی فروخت پر پابندی اور ایپل پر مالی جرمانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اب تک ایپل نے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ مقدمہ ایپل کے علاوہ گوگل، سیمسنگ، فٹ بٹ اور کیسٹیفائی جیسی کمپنیوں کے خلاف بھی دائر کیا گیا ہے، جن کے بینڈز میں بھی یہ کیمیکلز پائے گئے ہیں۔
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایپل واچ کے بینڈز کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں اور ممکنہ خطرات سے آگاہ رہیں۔
