UberEats اور Deliveroo جیسی پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے ڈیلیوری رائیڈرز، جو زیادہ تر غیر ملکی نژاد ہیں، نے گزشتہ کچھ مہینوں میں نسل پرستانہ رویوں اور بدسلوکی کی شکایات کی ہیں۔ یونینز کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا رجحان ہے جس کے خلاف پلیٹ فارمز اب اقدامات کر رہی ہیں۔
بریٹنی میں، شیخ پانچ سال سے UberEats کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دسمبر میں، انہیں ایک گاہکہ نے نسل پرستانہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا، “تم ہمیں تنگ کر رہے ہو، اپنے ملک واپس جاؤ۔” شیخ نے اس واقعے کو پلیٹ فارم اور سپر مارکیٹ کے ساتھ شیئر کیا۔ ان کے یونین نمائندے فیبین ٹوسولینی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یونین کے مطابق، ایسے معاملات میں اکثر ڈیلیوری رائیڈرز کو ہی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ گاہک اکثر رائیڈرز پر الزام لگاتے ہیں، جس کی وجہ سے پلیٹ فارمز ان کے اکاؤنٹس بلاک کر دیتی ہیں۔ رینس میں کام کرنے والے طارق کو بھی ایک گاہکہ نے “غلام” کہہ کر مخاطب کیا اور نسل پرستانہ الفاظ استعمال کیے۔ طارق کے اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا گیا، اور چار دن تک وہ کام نہیں کر سکے۔
UberEats اور Deliveroo نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اقدامات شروع کیے ہیں۔ دونوں پلیٹ فارمز نے یونینز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت متاثرہ رائیڈرز کو مالی معاوضہ دیا جائے گا۔ Deliveroo نے اپنی ایپ میں ایک نیا فیچر شامل کیا ہے جس کے ذریعے رائیڈرز نسل پرستی کے واقعات کو آسانی سے رپورٹ کر سکتے ہیں۔
یونینز کا کہنا ہے کہ اب نسل پرستانہ رویے اختیار کرنے والے گاہکوں کے اکاؤنٹس بھی بلاک کیے جا رہے ہیں، اگرچہ یہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہے۔ تاہم، زیادہ تر رائیڈرز پولیس میں شکایت درج کرانے سے گریز کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔
شیخ اور طارق جیسے رائیڈرز کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پلیٹ فارمز اور معاشرہ ان کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کو سنجیدگی سے لے۔
