15 جنوری کو پیرس کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں پولیس کی ایک کارروائی کے دوران 294 بے گھر افراد کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کی گئی۔ یہ کارروائی پیرس پولیس پریفیکچر اور ایلے ڈی فرانس پریفیکچر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتائی گئی۔ ان میں سے 219 افراد کو ایلے ڈی فرانس کے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ 75 افراد کو علاقے سے باہر واقع اسی طرح کے مراکز میں بھیجا گیا۔
یہ کارروائی سٹالن گراڈ، بولیوارڈ ڈی لا ویلیٹ، لا چیپلے، اور جورس کے علاقوں میں کی گئی، جو پیرس کے دسویں اور انیسویں اضلاع میں واقع ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سردی کے موسم میں بے گھر افراد کو محفوظ رکھنا تھا، کیونکہ پیرس میں رات کے درجہ حرارت میں صفر ڈگری سے نیچے گرنے کی اطلاعات تھیں۔
پریفیکچر کے بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ریاست کی جانب سے کمزور اور بے گھر افراد کی مدد کے لیے مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایلے ڈی فرانس میں 120,000 سے زائد افراد کو ریاست کی جانب سے رہائشی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ کارروائی 2025 میں اس نوعیت کی پہلی کارروائی تھی، جس میں بے گھر افراد کو سردی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔ پیرس میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، پیرس میں حالیہ دنوں میں دیگر اہم واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں میوزیم ڈی اورسے کی مورتیوں پر اینٹی-آئی وی جی کے بینڈز لگانے کا واقعہ اور کونسل آف کانسٹی ٹیوشن کی جانب سے ڈینیئل سائمن نیٹ کی انتخابی درخواست کو مسترد کرنے کا فیصلہ شامل ہیں۔
پیرس میں بے گھر افراد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کے باوجود، یہ مسئلہ اب بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی حل کے لیے مزید جامع پالیسیاں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔
