اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو مذاکراتی ٹیم کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے جمعہ 17 جنوری کو صبح 4 بج کر 49 منٹ پر اس بات کی تصدیق کی، جسے میڈیا نے چند گھنٹے قبل ہی پیش کیا تھا۔ اس کے بعد دوپہر کے اوائل میں اسرائیلی سلامتی کابینہ نے غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کو منظوری دے دی۔
اسرائیلی حکومت کے تمام ارکان کو فوری طور پر اجلاس میں شریک ہونا تھا اور تین مراحل پر مشتمل اس منصوبے کو منظور کرنا تھا، جس کا مقصد 15 ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے دو دن قبل اس منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ انتہائی دائیں بازو کے وزراء کی جانب سے اعتراضات اور شرائط میں اضافے کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو کی جانب سے آخری لمحات میں تحفظات کا اظہار بھی اس عمل میں تاخیر کا باعث بنا۔
امریکی صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ہی اس معاہدے کا اعلان کر دیا تھا اور پیر کو اپنی تقریب حلف برداری کے موقع پر اس کی تشہیر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ وہ پہلے ہی اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے تھے اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: “ہم پورے خطے میں طاقت کے ذریعے امن کو فروغ دینا جاری رکھیں گے، کیونکہ ہم اس جنگ بندی کے زور کو استعمال کرتے ہوئے تاریخی ابراہیم معاہدوں کو مزید وسعت دیں گے۔” یہ معاہدے 2020 میں اسرائیل کے متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کیے گئے تھے۔
