geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 9, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • French High Schools Brace for Chaotic Phone Ban Rolloutفرانس میں ہائی اسکول سے موبائل فون پر پابندی کا اعلان، لیکن عملی نفاذ ایک بڑا چیلنج
    • Pakistan Armed Forces Honor Rashid Minhas on 55th Martyrdom Anniversaryپاک فوج کی جانب سے راشد منہاس شہید کو ان کی 55ویں شہادت پر شاندار خراج عقیدت
    • New French End-of-Life Law Brings Peace to Familiesمعاون اموات کا قانون: ’میرے والد اپنی زندگی کا اختتام خود چن سکیں گے اور اس سے مجھے سکون ملتا ہے‘
    صحت و تندرستی
    • West Nile Virus Emerges North of France's Loire Riverوائرس نل مغربی: فرانس کے شمال میں پہلا مریض، کیا آپ خطرے میں ہیں؟
    • France Weather: Heat Returns for Back-to-School Weekیکم ستمبر سے اسکول واپسی پر موسم کیسا رہے گا؟ بارش کے بعد گرمی کی لہر واپس آنے کا امکان
    • Heatwaves: The Hidden Health Toll of Extreme Summersبار بار گرمی کی لہروں کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
    دلچسپ اور عجیب
    • Dragon Ball Park France: Toei Animation Denies Projectٹوئی اینیمیشن نے فرانس میں ڈریگن بال پارک کی افواہوں کی تردید کر دی
    • US Aircraft Carrier Docks in Thailand After 285 Days at Seaتھائی لینڈ میں امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی آمد، 285 دن بعد ساحلی قصبے میں رونق
    • Australian Woman Gives Birth to Twins with Different Parentsآسٹریلیا میں ایک خاتون نے جڑواں بچوں کو جنم دیا جن کے والدین الگ الگ تھے
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • OpenAI Scientist Warns AI Outpacing Global Preparedness# اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان کا انتباہ: دنیا اے آئی کی تیزرفتار ترقی کے لیے تیار نہیں
    • Data Centers Threaten Trump's Midterm Majorityڈیٹا سینٹرز کا طوفان: کیا یہ بڑی عمارتیں ٹرمپ کی کانگریس میں اکثریت چھین لیں گی؟
    • Berlin Refuses Ransom, Hackers Leak 1M Filesبرلن کی سائبر حملے کے بعد تاوان ادا کرنے سے انکار، ہیکرز نے شہر کا ڈیٹا جاری کر دیا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

وفاقی دارلحکومت میں غلاف کعبہ کی نمائش

May 15, 2019 1 1 min read
Ghilaf e Kaaba
Share this:

 Ghilaf e Kaaba

تحریر : مہر اقبال انجم

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری ہے،امت مسلمہ ماہ رمضان میں رب کو راضی کرنے کی سعی کرتی ہے، رمضان میں مساجد آباد ہو جاتی ہیں ،ہر گھر میں تلاوت قرآن مجید ہوتی رہتی ہے، یہ مہینہ برکتوں والا مہینہ ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں قرآن مجید نازل ہوا، اس ماہ مبارک میں سعودی حکومت کی جانب سے پاکستانی قوم کے لئے غلاف کعبہ کی زیارت کے لئے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے، گزشتہ برس بھی لاکھوں شہریوں نے غلاف کعبہ کی زیارت کی تھی۔ امسال بھی عوام کی بڑی تعداد نے مذہبی عقیدت کے ساتھ تبرکات کی زیارت کی۔اس موقع پر مختلف ممالک کے سفارت کاروں کو بھی خصوصی طور پر مدعوکیا گیا مختلف ممالک کے سفیروں اور ایوان بالا کے سنیٹرز نے بھی غلافِ کعبہ اور تبرکات نبوی کی زیارت کی، سونے کی تاروں اور قرآنی آیات سے مزین باب کعبہ کی لمبائی 5.1میٹر جبکہ چوڑائی تین میٹر ہے۔غلاف کعبہ کے ساتھ مقدس اشیاء بھی زیارت کے لیے رکھی گئیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان مبارک میں غلاف کعبہ کی زیارت نصیب ہونا ہماری خوش نصیبی ہے۔ جو لوگ سعودیہ نہیں جا سکتے ان کے لیے غلاف کعبہ کی زیارت کا اہتمام بہت اچھا اقدام ہے۔

شہریوں نے غلاف کعبہ کے ساتھ کھڑے ہو کر دعائیں بھی مانگیں۔ تاریخی روایات کے مطابق کعبہ شریف کے غلاف کے رنگوں کی تعداد سات تک ملتی ہے۔ خاکی، سرخ، سفید، زرد، سبز، سیاہ اور سنہری رنگوں کے غلاف بنائے گئے۔ سیاہ غلاف کعبہ شریف کی تاریخ میں سب سیزیادہ عرصے تک استعمال ہوا۔رپورٹ کے مطابق بعض اوقات ایک ہی وقت میں ایک سے زاید رنگوں کا غلاف بھی بنا۔ایک بنیادی رنگ اور دوسرا اس کی تزائین وآرائش کے لیے استعمال کیا گیا۔ سیاہ کپڑے پر سنہرے رنگ کا دور اسلام کے بعد کا دور ہے۔ سیاہ کپڑے پر قرآنی آیات یا دیگر مقدس عبارات تحریر کی جاتیں۔ اس وقت غلاف کعبہ کے دو رنگ سفید اور سرخ استعمال اس کی تزئین کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یمنی کپڑے کا رنگ سفید اور سرخ ہوتا ہے۔غلاف کعبہ کے خالص ریشمی کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔

غلاف کے اوپر تلے مختلف پرت بنائے جاتے ہیں اور یہ اچھا خاصہ وزنی ہوتا ہے جسے اٹھانا آسان نہیں رہتا۔ خانہ کعبہ پر غلاف رکھنے کا عرصہ بھی مختلف رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں ہرسال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔ ماضی میں بعض دفعہ غلاف کعبہ کو سال میں تین تین بار بھی تبدیل کیا جاتا رہا ہے۔غلاف کعبہ کی تبدیلی کی مشہور تاریخوں میں یوم عاشور، یکم رجب، 27 رمضان، یوم الترویہ اور قربانی کا دن زیادہ مشہور ہیں۔بیت اللہ کے تقدس کی طرح اس کے غلاف کی تاریخی اہمیت بھی مسلمہ ہے اور ظہور اسلام سے قبل دور جاہلیت میں بھی غلاف کعبہ ‘کسوہ’ نہایت توجہ اور انہماک کے ساتھ تیار کیا جاتا رہا ہے۔زمانہ قبل اسلام کی طرح غلاف کعبہ کی روایت عہد اسلامی میں بھی برقرار رہی۔ یہ معلوم نہیں کہ فتح مکہ سے قبل عہد نبوی میں غلاف کعبہ تیار کیا گیا یا نہیں البتہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘القباطی’ نامی کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرایا تھا۔ یوں یہ اسلامی عہد میں پہلا غلاف کعبہ تھا۔

ایک تاریخی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ کے دور کا تیار کردہ غلاف کعبہ اس وقت تبدیل کیا جب ایک خاتون کے ہاتھوں غلاف کعبہ کا کچھ حصہ جل گیا تو آپ نے یمانی کپڑے سے نیا غلاف تیار کرایا تھا۔خلفائے راشدین میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں القباطی اور یمانی کپڑوں کے غلاف تیار کیے گئے۔ حضرت عثمان بن عفان نے نیا غلاف تیار کرنے کے بجائے بہ یک وقت دو غلاف چڑھا دیے تھے۔ ایک ہی وقت میں خانہ کعبہ کے دو غلافوں کا یہ پہلا واقعہ ہے۔عصر حاضر میں جس حکمراں خاندان نے غلاف کعبہ کی تیاری اور جدت میں زیادہ توجہ سے کام کیا وہ عبدالعزیز آل سعود ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں الحرمین الشریفین کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔ آل سعود سے قبل کئی صدیوں تک غٍلاف کعبہ کی تیاری یا تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوتی۔ شاید اس کی بنیادی وجہ عالم اسلام میں جاری سیاسی تنازعات تھے جن کی وجہ سے کسی مسلمان حکمران کو اس طرف توجہ دینے کا موقع نہیں مل سکا، تا آنکہ 1344 ھجری میں غلاف کعبہ کو تبدیل کیا گیا۔ سعودی حکمراں خاندان نے نہ صرف غلاف کعبہ کی منفرد انداز میں تیاری کا بیڑا اٹھایا بلکہ اس مقصد کے لیے خصوصی بجٹ مقرر کرنے کے ساتھ سنہ 1346ھ ایک محکمہ بھی قائم کیا گیا جو غلاف کعبہ کے لیے نہایت عمدہ کپڑے کے دھاگے سے غلاف کی تیاری تک تمام مراحل کی بذات خود نگرانی کرتا ہے۔ اب ہر سال خانہ کعبہ کے غلاف کو نئے انداز اور ایک منفرد جدت کے ساتھ تیا کیا جاتا اور خانہ خدا کی زینت بنایا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ میں جدت کے ساتھ اس کی تیاری کے طریقہ کار میں بھی جدت آتی گئی۔ چند برسوں قبل تک غلاف کعبہ کی تیاری کا تمام کام ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔ غلاف کی سلائی کڑھائی،آیات قرآنی کی لکھائی سمیت تمام سوئی یا دستی آلات کی مدد سے طے کئے جاتے تھے۔ یہ یقیناً مشکل اور صبر آزما کام تھا اور اس طرح خانہ کعبہ کی تیاری میں کافی وقت صرف ہوتا تھا۔ آل سعود کے ابتدائی دور میں بھی دستی آلات کی مدد سے غلاف تیار کیا جاتا رہا ہے لیکن اب اس کی جگہ جدید مشینیوں نے لے لی ہے۔اب غلاف کعبہ کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان پر ہونے والی کشیدہ کاری، لکھائی اور سلائی کے لیے “جاکارڈ” نامی ایک سسٹم استعمال کیا جاتا ہے۔ اب مشینوں سے غٍلاف کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والی دھاگوں کی تعداد تک معلوم کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک میٹر غلاف کعبہ میں986۔ 9 دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔

جدید مشینی نظام نے غلاف کی تیاری نہ صرف آسان بنا دی بلکہ اس میں وقت کی بھی اچھی خاص بچت ہو جاتی ہے۔آل سعود خاندان کے شاہ عبدالعزیز پہلے حکمراں تھے جنہوں نے سنہ 1346ھ میں غلاف کعبہ تبدیل کیا۔ انہی کے دور میں 1403 کو غلاف کعبہ کا اندرونی کپڑا تبدیل کیا گیا اور سنہ 1417ھ کو دوبارہ مکمل غلاف تبدیل کیا گیا۔غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا جاتا ہے۔غلاف کعبہ کی موٹائی 98 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔غلاف کعبہ کی اونچائی 14 میٹر ہے۔رکنین کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 10 اعشاریہ 78 میٹر ہوتی ہے۔ملتزم کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 12 اعشاریہ 25 میٹر، حجر اسود کی سمت سے 10 اعشاریہ 29 میٹر جبکہ باب ابراہیم کی جانب سے 12 اعشاریہ 74 میٹر ہوتی ہے۔یکم ذی الحجہ کو غلاف کعبہ کی “سدنہ” یعنی متولی خاندان کو حوالے کرنے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہر سال 09 ذی الحجہ کو غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے۔غلاف کی تیاری پر 20 ملین ریال کی لاگت آتی ہے۔باب کعبہ کی جانب سے غلاف کے نیچے 6 اعشاریہ 32 میٹر اونچا اور تین اعشاریہ تیس میٹر چوڑا اضافہ کپڑا جوڑا جاتا ہے تاکہ غلاف کو چھونے سے بچایا جا سکے۔
Mehr Iqbal Anjum

تحریر : مہر اقبال انجم

Share this:
Narendra Modi
Previous Post بھارت ٹوٹ رہا ہے
Next Post گرفتاری کا خدشہ: آصف زرداری نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست جمع کرا دی
Asif Ali Zardari

Related Posts

OpenAI Scientist Warns AI Outpacing Global Preparedness

# اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان کا انتباہ: دنیا اے آئی کی تیزرفتار ترقی کے لیے تیار نہیں

September 9, 2026
Speaking Out Costs Women Everything, Author Claims

# بولنے کی قیمت: طاقتور مردوں کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کی ‘سماجی موت’

September 9, 2026
France Targets Parents to Boost Student Scores After Pisa Drop

# پیرس رپورٹ کے بعد فرانس میں تعلیمی بحران: وزیر تعلیم نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے کا عندیہ دے دیا

September 9, 2026
French Firefighters Slam Gov’t Reform as ‘Betrayal’

# فرانسیسی فائر فائٹرز کا وزیراعظم سے ملاقات کے بعد بھی احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

September 9, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.