گلگت: دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آکر لاپتہ ہونے والے 10 میں سے 8 کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ امدادی حکام نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں جبکہ 2 کوہ پیما تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
امدادی کارروائیوں میں موسم کی خرابی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 4 لاشوں کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں سے 3 لاشیں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سکردو منتقل کردی گئی ہیں۔
حادثے کی تفصیلات اور امدادی کارروائیاں
یہ المناک حادثہ جمعرات کو دوپہر کے قریب اس وقت پیش آیا جب 10 رکنی ٹیم 8,051 میٹر بلند اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں مصروف تھی۔ امدادی حکام اور مہم جوئی کے منتظمین نے لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹروں، زمینی ٹیموں اور بلندی پر ریسکیو کرنے والے ماہر اہلکاروں پر مشتمل ایک وسیع سرچ آپریشن شروع کیا۔
الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) نے تصدیق کی کہ آپریشن کے دوران چار لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ اے سی پی کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد نے دو ہلاک ہونے والوں کی شناخت عمانی کوہ پیما نادھیرا احمد عبداللہ الحارثی اور نیپالی کوہ پیما پور بہادر گورونگ کے طور پر کی ہے۔ باقی دو متوفین کی شناخت تاحال باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
مہم جو ٹیم کے ارکان اور لاپتہ افراد
الپائن کلب کے مطابق، اس مہم میں نیپال سے 6، پاکستان، عمان، چین اور امریکہ سے ایک ایک کوہ پیما شامل تھے۔ نیپالی ارکان میں معروف کوہ پیما نرمل پورجا، پور بہادر گورونگ، کلی پیمبا شیرپا، نیما شیرپا، نوانگ تھنڈو شیرپا اور گیالو شیرپا شامل تھے۔ اس کے علاوہ مہم میں پاکستانی کوہ پیما سہیل ساکھی، چین کے وانگ ژونگ، امریکہ کی میلوری گیس اور عمان کی نادھیرا احمد عبداللہ الحارثی بھی شامل تھے۔
- ہلاک شدگان میں 4 کی شناخت ہوگئی، 2 لاشیں تاحال نامعلوم
- نیپالی کوہ پیما نرمل پورجا اور پاکستانی سہیل ساکھی لاپتہ
- برفانی تودے نے کوہ پیماؤں کو تقریباً 1,000 میٹر نیچے گرا دیا
بین الاقوامی توجہ اور اہم شخصیات
>اس حادثے نے عالمی توجہ اس لیے بھی حاصل کرلی ہے کیونکہ مشہور نیپالی کوہ پیما نرمل پورجا بھی ان لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔ پورجا، جو برطانیہ کی برگید آف گورکھاز اور رائل میرینز کی اسپیشل بوٹ سروس کے سابق رکن ہیں، دنیا کے کامیاب ترین کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 2019 میں صرف 6 ماہ اور 6 دن میں 8,000 میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 2021 میں انہوں نے ایک آل نیپالی ٹیم کے ساتھ کے ٹو کی پہلی کامیاب سرمائی سربراہی میں بھی حصہ لیا۔
اسی طرح لاپتہ ہونےے پاکستانی کوہ پیما سہیل ساکھی کا تعلق ہنزہ سے ہے اور وہ ملک کے کامیاب ترین بلند ترین کوہ پیماؤں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنگچنجنگا کو سر کیا اور اس سے قبل کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم 1 اور گاشر برم 2 کو بغیر آکسیجن کے سر کرچکے ہیں۔
حکومتی اقدامات اور آپریشن کی مشکلات
الپائن کلب نے بتایا کہ پاک فوج کے دو ایوی ایشن ہیلی کاپٹر امدادی عملے اور خصوصی آلات کے ساتھ آپریشن میں معاونت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ کلب کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیاں سرکاری ایجنسیوں، پاک فوج اور مقامی حکام کے اشتراک سے جاری ہیں، جبکہ آپریشن کا انحصار موسم اور پرواز کے حالات پر ہے۔
اے سی پی کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری نے بتایا کہ لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے کچھ کے ابتدائی جی پی ایس ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تودے نے گروپ کو تقریباً 1,000 میٹر نیچے گرا دیا،س سے زندہ بچ جانے والے پاڑ کے ایک مشکل حصے میں پھنس گئے۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے اور پاک فوج کے اشتراک سے امدادی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
