ملتان: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں گورننس بہتر بنانے کے لیے مزید صوبے اور انتظامی یونٹ بنانے کے خیال کی بھرپور تائید کی ہے۔
جمعہ کو ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ ایک وفاق اور چار صوبوں کا نظام کام نہیں کر رہا، اس لیے مزید انتظامی یونٹس کی تشکیل ناگزیر ہے۔
انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ پاکستان رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے بڑا ہے، ایسے میں بہتر نظم و نسق کے لیے نئے انتظامی یون بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی ہیں اور پارٹی اس موقف پر قائم ہے۔
قبل ازیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں اقتصادی سربراہی اجلاس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے دنیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز کی توثیق کی تھی۔
گورننس کے ڈھانچے میں اصلاحات کی اپیل
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کا کئی دہائیوں پرانا نظام حکمرانی عوامی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے میں نام رہا ہے، جس کے لیے ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ فیصلہ سازی کو عوام کے قریب تر لایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ بامعنی اصلاحات کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، نہ کہ محض انفرادی پالیسی اقدامات۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں، پالیسی سازوں اور صنعتی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سربراہی اجلاس میں اٹھائے گئے زیادہ تر مسائل معاشی صلاحیت کی کمی کے بجائے گورننس کے ڈھانچے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے صحت کے شعبے کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہر سال چار لاکھ بچے مختلف بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، پاکستان میں ایک کروڑ دس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں اور ہر تیسرا شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ وزیر صحت کا نہیں بلکہ کابینہ کا کام ہے، جبکہ ڈریپ نے کچھ ادویات کیتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا ہے۔
